آل انڈیا مومن کانفرنس کی مانگ بنکر ودستکار کمیشن کا قیام جلد ہوگا
06:54PM Tue 23 Jul, 2013
آل انڈیامومن کانفرنس کی مانگ بنکر ودستکار کمیشن کا قیام جلد ہوگا
راہل گاندھی کی یقین دہانی حسن عارف انصاری کی قیادت میں نمائدہ سے ملاقات(ایک ماہ کی مہلت)
نئی دہلی :۔ قومی راجدھانی دہلی میں گذشتہ سالوں سے بنکر و دستکار کمیشن کے قیام کے لئے جس تحریک کی رہنمائی عارف انصاری صوبائی صدر یوپی آل انڈیا مومن کانفرنس و کانگریسی رہنما کررہے تھے، انہیں ایک بڑی کامیابی اس وقت ملی جب آل انڈیا کانگریس کمیٹی کے نائب صدر مسٹر راہل گاندھی نے مرکز میں بنکر کمیشن کے قیام کی یقین دہانی کراتے ہوئے کہا کہ یہ تمام مسائل آئندہ ایک ماہ میں حل کرانے کی حتی الامکان کوشش کی جائے گی۔
طے شدہ پروگرام کے تحت محترمہ سونیا گاندھی کی رہائش گاہ پر حسن عارف انصاری کی قیادت میں پورے ملک سے آئے لگ بھگ پانچ سو آل انڈیا مومن کانفرنس کے قائدین مسٹر راہل گاندھی سے ملاقات کی جس میں مرکز میں بنکر و دستکاروں کے مسائل سے متعلق مطالبات اور ان کے حل کے امکانات پر تبادلہ خیال کیا گیا، اس ملاقات میں مسٹر گاندھی کو گذشتہ پارلیمانی الیکشن مہم کے دوران سینئر کانگریسی لیڈران کے ذریعے ملک کے مختلف حصوں میں کئے گئے اس وعدے کو بھی یاد دلایا گیا جس میں کہا گیاتھا کہ اگر کانگریسی پارٹی برسراقتدار آئی تو ملک میں بنکر کمیشن کا قیام کیا جائے گا۔
محترم راہل گاندھی نے مسائل کو دلچسپی سے سنا اور حکومت کے ذمہ داران کوہدایت دی کہ بنکر و دستکاروں کے مسائل کو جلد سے جلد حل کیا جائے، انہوں نے آر۔آئی۔آیس کے ڈائریکٹر مسٹر ڈاکٹر مومن گوپال کو بھی ہدایت دی کہ وہ کمیشن کے قیام کی راہ پر کام کریں ، میٹنگ کے دروان محترم گاندھی نے مرکز میں بنکر کمیشن اور دوسرے مسائل حل کرنے کے لئے ۵؍ رکنی کمیٹی کی تشکیل کی ہدایت مسٹرحسن عارف کو دی، اور کہا کہ جلد از جلد ۵؍ نام ان کو بھیج دیں۔
میٹنگ کے دوران حسن عارف نے واضح طور پر کہا کہ آپ کے پاس ہم روز روز نہیں آسکتے اور نہ ہی آپ کے پاس اتنا وقت ہے کہ روز آپ ہمارے مسائل کے حل کے لئے وقت نکال سکیں، اس لئے روزمرہ کے مسائل کے حل ، ہمارے حقوق کی پامالی کو روکنے، حکومت کے فلاحی پروگراموں میں کرپشن کو روکنے کا ایک واحد حل ہے کہ مرکز میں ایس،سی کمیشن کی طرز پر بنکر کمیشن کا قیام جلد از جلد ہوع تاکہ ہم کمیشن کے ذریعے اپنے مسائل کا حل خود تلاش سکیں، انہوں نے محترم گاندھی کو بتایا کہ ملک کی آزادی کے بعد سے صوبہ پنجاب میں بنکر ایس، سی کے دائرے میں آتے ہیں، اور ہمارے بچوں کو ایس ، سی کا سرٹیفکیٹ ملتاتھا جون 2007کے بعد سے حکومت نے بند کر دیا، اگر مرکز میں بنکر کمیشن ہوا تو صوبائی سرکار کو ایسا کرنے نہیں دیا جاتا، ملک میں آبادی کے حساب سے ۷۰؍ فیصد ہندو اور ۳۰؍ فیصد مسلم بنکر اور دستکار ہیں۔
اس کے بعد وفد ایچ، آر، ڈی مسٹر جناب جشن پرساد جی، وزیر داخلہ جناب آر، پی، این سنگھ صاحب، سینئر وزیر حکومت ہند جناب شری پرکاش جیسوال صاحب، کانگریس پارٹی کے جنرل سکریٹری موہو سودھن مستری صاحب، سے ملا، اور بنکر کمیشن کی مانگ کی، سبھی وزراء حضرات نے وفد کی مانگ کو جائز ٹھہراتے ہوئے سرکار میں ان کی بات رکھنے اور پیروی کا بھروسہ دیا۔
وفد میں ۱۷؍ صوبوں سے آئے کانفرنس کے نمائندوں میں ۲۳؍ سابق ممبر اسمبلی ۔ ۳؍ موجودہ ممبر اسمبلی۔ ۲؍ سابق ممبر پارلیمنٹ کے علاوہ مولانا ڈاکٹر عزیر احمد قاسمی صاحب، مولانا سہیل احمد قاسمی صاحب حاجی احمد علی انصاری، ڈاکٹر وزیر انصاری، خلیل انصاری، شمیم انصاری، زبیر انصاری، اقبال انصاری، ڈاکٹر تاج الدین انصاری ، ڈاکٹر عتیق الرحمن قاسمی انصاری،عباس انصاری، محمد اعظم انصاری ، رئیس احمد انصاری خاص طور پر موجود تھے۔