موب لنچنگ : وزیر اعظم مودی کے بعد اب راہل گاندھی کو احمد بخاری نے لکھا خط ، موقف واضح کرنے کا مطالبہ
04:09PM Mon 30 Jul, 2018
Share:
نئی دہلی : دہلی کی جامع مسجد کے شاہی امام مولانا احمد بخاری نے ملک میں بھیڑ کے ہاتھوں پیٹ پیٹ کر ہلاک کئے جانے یا موب لنچنگ کے معاملہ پر کانگریس کے صدر راہل گاندھی سے مسلمانوں پر ہونے والے حملوں پر اپنی پارٹی کا موقف واضح کرنے کے لئے کہا ہے۔امام بخاری نے اس سے قبل وزیر اعظم مودی کو خط لکھ کر موب لنچنگ میں ملوث افراد کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ کیا تھا۔
شاہی امام نے مسٹر گاندھی کو لکھے خط میں سوال کیا ہے کہ حکومت جو برتاو مسلمانوں کے ساتھ کررہی ہے اس پر وہ خاموشی کیوں اختیار کیوں کئے ہوئے ہیں۔ انہوں نے لکھا ہے’’کیا مسلمانوں پر ظلم و زیادتی کے واقعات پر وہ خاموش رہے ہیں۔‘‘ امام بخاری نے راہل گاندھی سے اپیل کی کہ ذمہ دار اپوزیشن کے ناطے انہیں مسلمانوں کی سلامتی کے لئے حکمراں جماعت پر دباو ڈالنا چاہئے ، جس سے ملک میں اقلیتی طبقہ پہلے کی طرح ہی بے خوف ہوکر جی سکے۔
امام بخاری نے کہا کہ مسلم نوجوانوں کو ٹوپی پہن کر اور داڑھی رکھ کر گھر سے باہر نکلنا مشکل ہوگیا ہے۔ ان کی جان و مال کا خطرہ لاحق ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں اقلیتوں کے لئے پہلے کی طرح بے خوف ماحول بنایا جائے تاکہ وہ بے خوف ہوکر زندگی گذار سکیں۔
اس سے قبل امام بخاری نے وزیر اعظم مودی کو پیر کو لکھے خط میں بی جے پی حکومت پر انتخابی وعدہ سب کا ساتھ سب کا وکاس کو نبھانے میں ناکام رہنے کا الزام لگایا تھا۔ انہوں نے لکھا تھاکہ آپ نے ملک کے ایک سو پچیس کروڑ لوگوں کے ساتھ مساوات کا سلوک کرنے کا وعدہ کیا تھا ، لیکن افسوس کی بات ہے کہ زمینی حقیقت اس کے بالکل برخلاف ہے ۔بلکہ ملک کے ہر سمجھدار شہری کے لئے تشویش کا موجب بھی ہے۔
انہوں نے لکھا کہ گؤ رکشک کے نام ہونے والی موب لنچنگ کے واقعات پر وزیر اعظم مودی کی طرف سے سخت وارننگ کے باوجود سماج مخالف عناصر پر اس کا کوئی اثر نہیں پڑا ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ بی جے پی کی حکومت بڑی چالاکی سے کچھ مرکزی وزیروں اور ممبران اسمبلی کی حوصلہ افزائی کررہی ہے جو اقلیتوں کا نام لے کر بیان دے رہے ہیں۔انہوں نے لکھا تھا کہ اب وقت آگیا ہے کہ مرکز اور ریاستوں کی حکومتیں اپنے وعدے پر عمل کریں اور مسلمانوں کے خوف کو دور کرنے کے لئے فوری ٹھوس قدم اٹھائیں۔