پاکستان میں لڑکیوں کے اسکول میں لگائی آگ ، کتابوں کو بھی نہیں بخشا

03:47PM Sat 4 Aug, 2018

پاکستان کے گلگت بلتستان علاقے میں نا معلوم دہشت گردوں نے 12 اسکولوں میں آگ لگادی۔ پولیس نے بتایا کہ ان اسکولوں میں زیادہ تر لڑکیوں کے اسکول ہیں۔ پاکستانی میڈیا نے دیامر ضلع کے پولیس کمشنر عبد الوحید کے حوالے سے بتایا ہے کہ حملہ آوروں نے دوپہر تقریبا 3 بجے کے درمیان اسکولوں میں آگ لگائی۔ وحید نے کہا ، 'ہم نہیں جانتے کہ اس کے پیچھے کون ہے۔ یہاں بہت کم لوگ لڑکیوں کی تعلیم کے خلاف ہیں جبکہ زیادہ تر لوگ اس کی حمایت کرتے ہیں۔ اس کے پیچھے ایک یا اس سے زیادہ تنظیم ہو سکتی ہیں'۔ واضح ہو کہ جن اسکولوں کو نشانہ بنایا گیا ان میں 8 اسکول سرکاری تھے، جبکہ چار اسکول دور اور پہاڑی علاقوں میں افغانستان ، چین اور جموں و کشمیر کی سرحد پر واقع غیر منافع بخش تنظیموں کے ذریعے چلائے جا رہے تھے۔ دیامر کے پولیس سپرنٹنڈنٹ رائے اجمل نے سماچار پتر ڈان کو بتایا کہ حملہ آوروں نے کتابوں کو بھی جلا دیا۔
 یہاں ہر اسکول میں اوسطاً تقریبا 200 سے 300 لڑکیاں پڑھتی تھیں۔ 3،500 لڑکیاں اسکولوں میں رجسٹرڈ ہیں۔ پولیس افسران نے کہا ، ' ضلع میں 2004 سے 2011 کے درمیان بھبی ایسے ہی حملے ہوئے تھے۔ گلگستان ۔ بلتستان میں شرح خواندگی کم ہے"۔ انسانی حقوق پر نظر رکھنے والا ایک ادارے کی گزشتہ سال آئی رپورٹ کے مطابق 2007 سے 2015 کے درمیان پاکستان صرف 867 تعلیمی اداروں پر حملے ہوئے ، جن میں 392 لوگوں کی موت ہو گئی تھی اور 724 لوگ زخمی ہوئے تھے۔
رپورٹ کے مطابق ، ملک میں بار۔ بار تعلیمی اداروں  پر حملے سے تعلیم ، خاص کر لڑکیوں کی تعلیم کو متاثر  کیا جارہا ہے۔ پاکستان میں اسلامک دہشت گردوں کے ذریعے اساتذہ  ، طلبا کاص کر لڑکیوں پر حملے عام ہیں۔ یہاں 2.3 کروڑ بچے اسکول نہیں جاتے ہیں۔ طالبان دہشت گردوں نے لڑکیون کی تعلیم کی وکالت کرنے کیلئے 2012 میں سوات گھاٹی میں نوبل انعام کے ونر اور ایجوکیشن ورکر ملالہ یوسف زئی پر گولی باری کی تھی۔