یوم صحافت کی تقریب میں صحافت کے بجائے سیاست پر بحث

05:50PM Sun 28 Jul, 2013

یوم صحافت کی تقریب میں صحافت کے بجائے سیاست پر بحث اردو اخبارات حاشیہ پر بیدر:28جولائی(نامہ نگار)کرناٹک یونین آف ورکنگ جرنلسٹ ضلع بیدر کے زیراہتمام آج شہر کے میوراہوٹل میں ’’یوم صحافت‘‘ کا انعقادعمل میں آیاجس میں تشریف فرما سیاستدانوں نے اس اسٹیج کو سیاسی کارگزاریوں اور خاندانی تعلقات کے لئے استعمال کرنا ضروری سمجھا۔ اور کوئی ایسی بات سامنے نہ آسکی جو اخبارکے لئے مؤثریاصحافیوں کے لئے فائدہ مند ہو۔تقریب کے مہمان خصوصی رکن پارلیمان دھرم سنگھ نے پروگرام کا افتتاح کرنے کے بعد اپنے خطاب میں کے جے پی کے مقامی ایم ایل اے کی تعریف کرتے ہوئے کہاکہ ریاستی سیاست میں ناگمارپلی ایم ایل اے بیدر بے حد مصروف ہونے کے باوجوداس تقریب میں شرکت کے لئے آئے ہیں ، وہ ڈی سی سی بینک بیدر کے صدر بھی ہیں اور میرے پرانے دوست ہیں ۔ اسمبلی میں انھوں نے ضلع بیدر کی ترقی کے لئے جو سوالات اٹھائے ہیں اس کے لئے میں انھیں مبارک باد پیش کرتاہوں ۔ دھرم سنگھ نے صحافت کے بارے میں بتایاکہ ریاست میں جو تبدیلی آئی ہے ایسی ہی تبدیلی ریاستی صحافت میں بھی آنی چاہیی۔ 5اگست سے لوک سبھا کاآغاز ہوگا ، جس میں غذائی گیارنٹی بل کی پیش کشی ہے ۔ملک میں تبدیلی اور ملکی ترقی میں میڈیا کارول اور ذمہ داری زیادہ ہے۔ ’’منگلور سماچار‘ ‘ کی اشاعت کے دن کو یوم صحافت کے طورپر ریاست میں منایاجاتاہے۔ انھوں نے بھروسہ دلایاکہ بیدر ۔ گلبرگہ علاقے کی ترقی کے لئے ناگمارپلی اور ہم مل جل کر سیاسی وابستگی سے اوپر اٹھ کر کام کریں گے۔ ہم دونوں بہت پرانے دوست ہیں ۔ موصوف نے نگران وزیر اماشری کے بارے میں بتایاکہ میں نے اس تقریب میں آنے کے لیی انھیں فون کیاتھا لیکن وہ آنہ سکیں ۔ عہدہ کوئی اہم چیز نہیں بلکہ مل جل کر کام کرنا اہم ہوتاہے۔ مقامی رکن اسمبلی ناگمارپلی نے اپنے خطاب میں رکن پارلیمان دھرم سنگھ کی تعریف کو ضروری سمجھااور بتایاکہ یہ میری غلطی رہی کہ میں کانگریس سے نکل آیا، اگر کانگریس میں ہوتاتو آج وزیرہوتا۔ دھرم سنگھ جس وقت وزیراعلیٰ کرناٹک تھے انھوں نے مجھے وزیربنایاتھا۔ موصوف نے اخلاقی باتیں کرنا بھی ضروری سمجھتے ہوئے بتایاکہ آج ہر انسان کسی نہ کسی فکر میں مبتلا ہے۔ لوگون کی زندگیوں میں خوشیاں نہیں ہیں ۔ اس کے باوجود ہمیں چاہیی کہ ہم پرامید رہیں ۔ جتنازیادہ لالچ ہوگی اتناآدمی برباد ہوگا۔ عوامی نمائندے ، افسران ، عدالت کے بعد صحافت جمہوریت کا چوتھاستون ہے۔ معاشرے کی تبدیلی میں صحافیوں کا حصہ زیادہ ہے۔ ہم اور دھرم سنگھ پرانے دوست ہیں ۔ ہم پریم سے آپس میں الیکشن لڑچکے ہیں ، آگے کیاہوگاپتہ نہیں ۔ میں ایم پی تو بن نہیںسکا البتہ ایم ایل اے بن چکاہوں۔ممتاز دانشور اور دی ہندو اخبار کے سینئر نمائندے برائے بیدر جناب رشی کیش بہادردیسائی نے اپنے خطاب میں صحافیوں کے مسائل پر بہت ساری باتیں کہیں اور بتایاکہ 1986ء سے سپریم کورٹ میں ایک کیس زیردوراں ہے کہ اخباروالوں کو کتنا اورکیسے پیمنٹ دیاجائے۔ ڈاکٹرس اور دیگر ملازمین کو حکومت مختلف سہولتیں دیاکرتی ہے ، خصوصاً ہیلتھ انشورنس وغیرہ لیکن ایسی سہولتیں اخبارنویسوں کو نہیں ہے۔ حکومت کو چاہیی کہ وہ اس طرف توجہ دے۔ نئے صحافیوں کو تربیت دینے کے لئے صحافتی اصطلاحات اور خبرنویسی کا طریق کار پر سیمنار منعقد ہونے چاہیی۔ خصوصی لیکچر کے لیی گلبرگہ سے تشریف لائے کنڑاروزنامہ ’’وجے وانی‘‘ کے ویدراج ویاس نے کہاکہ کمپیوٹر کازمانہ آچکاہے ، ٹیلی گراف بندہوچکا۔ پہلے خبرنویسی اسلئے ہوتی تھی تاکہ لوگوں میں بیداری پیدا ہو۔ لیکن آج کل اخباری لائن بزنس لائن بن چکی ہے ۔اور یہ ضروری بھی ہے کہ اشتہارات کے بل بوتے پر ہی اخبار زندہ رہتاہے۔ موصوف نے مقامی اخبار کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہاکہ مقامی اخبار جتنا مضبوط ہوگا اس سے وابستہ ملازمین اتنی ہی ترقی کرسکیں گے۔مقامی اخبارات کو مستحکم کرنے کے لیی حکومت کو چاہیی کہ ہر ماہ دوچار اشتہارات ضرور دے۔ انھوںنے تمام اخبارات کو تلقین کی کہ وہ ضلع کے مسائل پر لکھاکریں ۔ممتاز سینئر صحافی اور کنڑا روزنامہ ’’اتر کرناٹک‘‘ کے ایڈیٹر شیوشرنپا والی نے اپنی لچھے دار اورکھردری تقریر میں کہاکہ جو اخبارات خود کو قومی یاریاستی اخبار بتاتے ہیں وہ دراصل ضلع سطح کے اخباربن چکے ہیں اس لئے کہ بیدر کی خبر گلبرگہ کے قریب واقع کملاپور تک بھی ہمیں نہیں ملتی ۔ زیادہ صفحات اور رنگین اخبار نکالنے سے وہ اخبار ریاستی اخبار نہیں بن جاتا۔ صحافتی میدان کے بزرگ ایڈیٹر شیوشرنپا نے سختی سے مبینہ طورپر کہاکہ اخباروالے چاپلوس بن چکے ہیں ، دولت مندوںاور سیاستدانوں کی چمچہ گیری میں لگے ہوئے ہیں ۔ اور کلر فل خبر لکھ رہے ہیں ۔ سوابھیمان گروی رکھ کر اخبار کی اہمیت کو داؤ پر لگانا ٹھیک نہیں ۔ اور جی حضوری بھی اچھی بات نہیں ہوتی ۔ سچ کے لیی کام کرنے سے اخبار کی اہمیت بڑھتی ہے۔ ہمناآباد کے رکن اسمبلی راج شیکھر پاٹل نے بھی اس موقع پر اپنے خطاب میں ناگمارپلی سے اپنے رشتہ کو نبھانا ضروری سمجھا۔ سدرامیا سوامی صدر ضلع کے یو ڈبلیو جے نے اپنی تقریر میں صاف طورپر کہاکہ موجودہ اخباروالے اپنے زمانے کے تقاضوں کو سامنے رکھ کر لکھتے ہوئے روزی روٹی کمارہے ہیں ۔ سابقہ دور کچھ اور تھاتب کے اصولوں کو اب نبھایانہیں جاسکتا۔ موصو ف نے صدر ہونے کے باوجود صحافیوںکے مسائل کا ذکر کرنا ضروری نہیں سمجھا۔ البتہ یہ ضرور کہاکہ چندایک مقامی اخبارکے ایڈیٹر نے اخبار نکال کر اپنی جائیداد اور گھر کو فروخت کرڈالا اور اس راہ میں وہ تباہ ہوگئے۔ شہ نشین پر ضلع پنچایت کی صدر سنتوشماں ، اے ایس پی جی سنگیتا، اور ریاستی نمائندہ برائے یونین ڈی کے گنپتی موجودتھے۔ پروگرام کی نظامت کے فرائض ناگیش پربھا نے نبھائے۔ آننددیوپا نے استقبال کیا۔ اظہار تشکر یونین کے جنرل سکریڑی ششی کمار پاٹل نے کیا۔واضح رہے کہ اس پروگرام میں عوام کی شرکت تو نہیں تھی البتہ گروناتھ کلور جیسے دیگر گتہ دار پروگرام میں موجود تھے۔ محکمہ اطلاعات عامہ بیدر کے اشتراک سے یہ تقریب منعقد کی گئی تھی لیکن محکمہ کا کوئی نمائندہ پروگرام میں شریک نہیں ہوا۔ اس سے معلوم ہوتاہے کہ محکمہ اطلاعات عامہ بیدر کو ’’یوم صحافت ‘‘ جیسے اہم پروگرام سے بھی کوئی دلچسپی نہیں ہے۔ جب محکمہ کو ہی دلچسپی نہیں ہے تو ریاستی حکومت کو صحافیوں کے مسائل کے حل سے کیا دلچسپی ہوسکتی ہے؟ اسی طرح ڈپٹی کمشنر ڈاکٹر پی سی جعفر نہ خود آئے اور نہ ہی اپنا کوئی نمائندہ شرکت کے لیی روانہ کیا۔ اس تقریب میں اردو اخبارات کے ایڈیٹراور صحافیوں کا بھی کوئی رول نہیں تھا۔ گویا اردو اخبارات حاشیہ پر کردئے گئے ہیں ۔ بہت سے اردو اخبارات کے نمائندوں کو دعوت نامے تک نہیں دئے گئے ۔ bidar04