دینی تعلیم کی ابتداء اپنے گھروں سے کی جائے ؛ مولانا احمد سراج قاسمی
12:13PM Mon 24 Jun, 2013
دینی تعلیم کی ابتداء اپنے گھروں سے کی جائے ؛ مولانا احمد سراج قاسمی
بھٹکلیس نیوز / 24 جون، 13
بھٹکل / "دینی تعلیم اور دینی معاشرہ کی بنیاد اپنے گھروں سے ڈالی جائے اس لئے کہ یہی نسل آگے جاکر معاشرہ سے ملنے والی ہے اور انہی کو معاشرہ کا فرد بننا ہے اگر گھر سے ہی اس کی شروعات ہوگی تو آہستہ آہستہ معاشرہ میں سدھار آنے لگے گا اور اسلامی ماحول نظر آئے گا" ۔ ان خیالات کا اظہار مہتمم جامعہ ریاض العلوم جناب مولانا احمد سراج صاحب قاسمی نے یہاں رابطہ ہال میں جماعت اسلامی ہند کی جانب سے منعقد اجلاس بعنوان 'آؤ اسلامی گھر بنائیں' میں کیا وہ یہاں مہمان خصوصی کی حیثیت سے کلیدی خطاب فرما رہے تھے ۔ مولانا محترم نے اس موقع پر اسلامی نہج پر تعلیم کی اہمیت پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں چاہیئے کہ ہم اپنے معاشرے میں اسلامی اسکول قائم کریں جس میں اسلامی نصاب کے ذریعہ طلبہ کو تعلیم دیا جائے تاکہ ہماری اولاد اسلامی خطوط پر پروان چڑھ سکے اور اس مغرب سے مرعوب معاشرہ سے دور رہ سکے ۔ مولانا سراج صاحب نے اسلام کو ایک نعمت عظمیٰ قرار دیتے ہوئے کہا کہ اللہ تعالیٰ نے ہمیں اتنی بڑی نعمت اسلام سے نوازا ہے لیکن ہم اس سلسلہ میں ذرا برابر بھی خیال نہیں کرتے کہ ہم کو کس مقصد کے لئے پیدا کیا گیا ہے ہمارا دین ہمیں کیا کہتا ہے اور ہمارے رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی کیا تعلیمات ہیں ۔ اگر ہم ان مقاصد میں پورے اترتے ہیں تو اللہ کی ذات سے امید ہے کہ وہ ہمارے معاشرہ میں امن و امان کو بحال کرے گا اور ہمارا ماحول اسلامی ماحول بن جائے گا جس کی کہ آج ہمیں بہت ضرورت ہے ۔ مولانا محترم کے خطاب کے بعد سوال و جواب کا وقفہ رکھا گیا تھا جس میں پوچھے گئے سوالات کے مولانا موصوف نے تشفی بخش جوابات دئے ۔ اس موقع پر جناب عبدالغفار صاحب ، جناب حامد عمری ، مولانا سید زبیرمارکٹ صاحب ، جناب نذیر احمد شرالکپّہ ، جناب قمر الدین مشائخ و دیگر حضرات موجود تھے ۔
شمس اسکول میں اجلاس : اسی سلسلہ کے تحت شمس انگلش میڈیم اسکول میں بھی کل صبح ایک نشست کا انعقاد کیا گیا تھا ۔ جس میں مولانا موصوف نے والدین کی فرماں برداری کی تاکید کرتے ہوئے ان کے حقوق کے سلسلہ میں تفصیلی خطاب کیا ۔ اس موقع پر انچارج پرنسپال پروفیسر ہاشم زرزری صاحب ، جناب نذیر صاحب شرالکپہ ، جناب مولانا سید زبیر صاحب مارکیٹ اور دیگر حضرات موجود تھے ۔