اجمیر: پاکستانی زائرین کی شرکت مشکوک
03:18AM Wed 15 May, 2013
بھارتی شہر اجمیر میں خواجہ معین الدین چشتی کے سالانہ عرس میں اس بار پاکستانی زائرین کی شرکت مشکوک ہے۔
پاکستانی وزارتِ خارجہ کے ایک بیان کے مطابق پاکستان میں بھارت کے نائب ہائی کمشنر نے پاکستان کی وزارت خارجہ کے جنوب ایشیا کے ڈائریکٹر جنرل کے ساتھ ملاقات کے دوران کہا ہے کہ بھارت میں سلامتی کی موجودہ صورت حال اور کشیدگی کے پیش نظر پاکستانی زائرین کو سکیورٹی فراہم کرنا مشکل ہوگا۔
ایسی صورت حال میں بھارتی حکومت نے پاکستان کو یہ مشورہ دیا ہے کہ وہ اس سال اپنے باشندوں کو اجمیر کی درگاہ کی زیارت کے لیے نہ بھیجے۔
واضح رہے کہ اس سال اجمیر میں خواجہ نظام الدین چشتی کا سالانہ عرس 13 سے 23 مئی تک منایا جا رہا ہے۔ یہ ان کا 801 واں عرس ہے۔
صوفی بزرگ خواجہ معین الدین چشتی کو بر صغیر میں کافی عقیدت کی نظر سے دیکھا جاتا ہے اور ان کے عرس کے موقع پر ہر سال لاکھوں کی تعداد میں عقیدت مند اجمیر میں جمع ہوتے ہیں۔
پاکستان اور بھارت نے حال ہی میں مذہبی مقامات کی زیارت کے لیے گروپ ویزا شروع کرنے کا معاہدہ کیا تھا۔
پاکستان کے سابق وزیر اعظم راجہ پرویز اشرف گزشتہ دنوں درگاہ پر حاضری دی تھی
گزشتہ دنوں پاکستان کی جیل میں ایک بھارتی شہری اور اس کے بعد بھارت کے زیر انتظام جموں کشمیر کی ایک جیل میں ایک پاکستانی شہری کو ہلاک کیے جانے کے واقعے سے دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات مذید کشیدہ ہو گئے ہیں۔
خیال رہے کہ بھارتی شہری سربجیت سنگھ پر لاہور کی کوٹ لکھپت جیل میں قاتلانہ حملہ ہوا تھا جس کے نتیجے میں ان کی موت ہو گئی تھی۔
جس دن سربجیت سنگھ کی آخری رسومات ادا کی جا رہی تھی اسی روز بھارت کے زیر انتظام جموں کشمیر کی کوٹ بھلول جیل میں قید پاکستانی شہری ثناء اللہ پر قاتلانہ حملہ ہوا جو بعد میں چنڈی گڑھ کے ہسپتال میں دم توڑ گئے۔
اس سے قبل سخت گیر ہندو تنظیموں اور تاجر گروپ اجمیر آنے والے پاکستانی زائرین کے خلاف مظاہرہ کرنے کا منصوبہ رکھتے تھے جس کے پیش نظر سیکورٹی میں اضافہ کیا گیا تھا۔
مقامی انتظامیہ نے جمعرات کو تاجر برادری اور سخت گیر ہندو تنظیم وشو ہندو پریشد، شیو سینا اور بجرنگ دل کے نمائندوں سے بات چیت کی۔
جے پور سے نامہ نگار ناراین باریٹھ کا کہنا ہے کہ ان تنظیموں کے نمائندوں نے اجمیر درگاہ کے خادمین سے پاکستانی زائرین کا بائیکاٹ کرنے کے لیے کہا لیکن خادمین کی انجمن نے کہا کہ انہیں اس بائیکاٹ سے کوئی سروکار نہیں ہے۔
اس سے قبل بی جے پی کے رہنما اور مقامی رکن اسمبلی واسودیو دیونانی نے کہا تھا کہ انھوں نے حکومت ہند سے پاکستانی زائرین کو یہاں آنے کی اجازت نہ دینے کا مطالبہ کیا ہے۔
پاکستان کے سابق وزیر اعظم راجہ پرویز اشرف گزشتہ دنوں درگاہ پر حاضری دی تھی
BBC