آدھار ڈاٹا کے استعمال کا معاملہ: مرکزاور یوآئی ڈی اے آئی کوسپریم کورٹ کا نوٹس
02:25PM Fri 22 Nov, 2019
سپریم کورٹ نے پرائیوٹ کمپنیوں کوکسٹمرس کے رضاکارانہ تصدیق کے لئے آدھار ڈاٹا استعمال کرنے کی اجازت دینے والے قانون میں ترمیم کے آئینی جوازکو چیلنج کرنے والی عرضی پرمرکزی حکومت سے آج جواب طلب کیا۔چیف جسٹس ایس اے بوبڈے اور جسٹس بی آر گوائی کی بنچ نے ایس جی وومبٹکیرے اور حقوق انسانی کے کارکن بیجواڑہ ولسن کی مفاد عامہ کی عرضی پر سماعت کے دوران مرکزی حکومت اورانڈین یونیک آئیڈینٹیٹی فیکیشن اتھارٹی (یو آئی ڈی اے آئی) کو نوٹس جاری کیا اوراس معاملے کواسی طرح کے زیرالتواعرضی کے ساتھ جوڑدیا۔
عرضی میں الزام لگایا گیا ہے کہ آدھار قانون میں 2019 کی ترمیم عدالت عظمی کے سابقہ حکم کی خلاف ورزی ہے۔ عرضی میں کہا گیا ہے کہ حکومت نے اس کے ذریعہ پرائیوٹ کمپنیوں کی پچھلے دروازے سے انٹری کرائی ہے۔اس سے پہلے پانچ ججوں کی آئینی بنچ نے آدھار قانون کے جواز کوبرقرار رکھتے ہوئے کچھ اعتراضات کئے تھے اور کہا تھا کہ پرائیوٹ کمپنیوں کو کسٹمرس کی اجازت سے بھی ان کی معلومات کی تصدیق کے لئے ڈاٹا استعمال کرنے کی اجازت نہیں دی جاسکتی۔بعد میں مرکز نے بینک اکاونٹ کھولنے اور موبائل فون کنکشن حاصل کرنے کے لئے صارفین کو شناختی کارڈ کے طور پر آدھار کا رضاکارانہ استعمال کرنے کی اجازت دیتے ہوئے قانون میں ترمیم کی تھی۔