پرموشن میں ریزرویشن سے بی جے پی اکھلیش-مایا کا "ماسٹر پلان" بگاڑے گی

03:37PM Wed 18 Apr, 2018

نئی دہلی: دلت استحصال بل کو لے کر ہوئے حالیہ احتجاجی مظاہرہ کے بعد مودی حکومت خود کو مضبوط پوزیشن میں لانے کے مقصد سے سرکاری نوکریوں میں ایس سی ایس ٹی کے پرموشن کا بل پھر سے لارہی ہے۔ یہ بل طویل وقت سے زیر التوا ہے۔ اس قدم سے بی جے کو نہ صرف پسماندہ دلت کے اتحاد کو سمجھنے میں مدد ملے گی۔ بلکہ سماجوادی پارٹی اور بی ایس پی کے اتحاد سے پڑنے والے اثر کو بھی کم کرنے میں کامیاب ہوگی۔ ایس سی ایس ٹی ایکٹ کو لے کر حال ہی میں ہوئے ہنگامہ سے دلتوں میں غیرتحفظ کا احساس پیدا ہوا ہے، اسی احساس کو دور کرنے کی کوشش مودی سرکار 117ویں آئینی ترمیمی بل کے ذریعہ کررہی ہے۔ 117ویں آئینی ترمیمی بل  ایس سی ایس ٹی کے لئے ترقی میں ریزرویشن دینے کے مقصد سے 2012میں کانگریس کے ذریعہ  لایا گیا تھا۔
یہ بل سال 2012میں ہی سپریم کورٹ کے ذریعہ اس معاملے میں دیئے گئے حکم کو ختم کرنے کے لئے لایا گیاتھا۔ اپنے احکامات میں سپریم کورٹ نے اترپردیش حکومت کے پرموشن میں ریزرویشن دیئے جانے کے قانون کو منسوخ کردیا تھا۔ عدالت کا کہنا تھا کہ یہ قانون 2006میں "ناگراج معاملے"کے خلاف  ہیں جس میں کورٹ نے پرموشن میں کوٹہ کو درست تسلیم کرتے ہوئے بھی کچھ قوانین وضوابط  مقررکئے تھے۔ جب 2012میں یو پی اے 117ویں آئینی ترمیمی بل کو لے کر آئی تھی تو اسے کافی مخالفت کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ خود پارٹی میں بھی مخالفت کی آواز اٹھی تھی، جسے دبا دیاگیاتھا۔ حالانکہ مخالفت کرنے والوں میں سماجوادی پارٹی سب سے آگے تھی۔ شاید اس کی سب سے بڑی وجہ یہ تھی کہ اس بل میں دیگر پسماندہ طبقات کے لئے پرموشن میں ریزرویشن  دیئے  جانے کی تجویز نہیں تھی۔ اس کے کچھ دن پہلے ہی اترپردیش اسمبلی انتخابات میں سماجوادی پارٹی نے بی ایس پی کو شکست دے کر زبردست اکثریت سے جیت حاصل کی تھی، اس لئے اس بل کو حمایت دینے کی اس کی کوئی سیاسی مجبوری نہیں تھی۔ سماجوادی نے اس کی مخالفت اس بنیاد پر کی کیونکہ  اس بل میں صرف ایس سی ایس ٹی کے پرموشن کی بات کی گئی تھی۔ دیگر پسماندہ طبقہ اس میں شامل نہیں تھا۔ یہ اعلیٰ طبقے کے لوگوں کو ناراض کرنے والا بھی تھا۔ اب جبکہ اترپردیش کے بدلے ہوئے سیاسی منظر میں ایس پی اور بی ایس پی مل کر ایک نیا سماجی اتحاد تیار کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔ یہ بل 2019میں بی جے پی کی مخالفت میں مخالف پارٹیوں کے ذریعہ کی جارہی مشترکہ کوشش کا بھی امتحان لے گی۔ ترقی میں ریزرویشن دیئے جانے کے معاملے پر ایس پی اور بی ایس پی میں اتنی مخالفت تھی کہ جب بل کو پارلیمنٹ پیش کیا گیا تو اس وقت سماجوادی پارٹی کے لیڈر نریش اگروال اور پنجاب سے بی ایس پی لیڈر اوتار سنگھ ایک دوسرے سے ہاتھا پائی پر اتر آئے۔ اس وقت سماجوادی پارٹی کے سربراہ ملائم سنگھ نے ایک قدم آگے بڑھ کر اسے"غیر آئینی" قرار دے دیا اور کہا کہ وہ اس کی مخالفت میں لوگوں کے درمیان جائیں گے۔ کانگریس کو تقریباً دھمکی دیتے ہوئے ملائم سنگھ نے کہاکہ کانگریس کو اس کا خمیازہ بھگتنا پڑے گا۔ انہوں نے کہاکہ "یہ سینئر کو جونیئر"  اور"جونیئر کوسینئر"  بنا دینا غیر آئینی ہے"۔ پارلیمنٹ میں بل پیش کرنے سے فوراً پہلے سینئر ایس پی ممبرپارلیمنٹ جیا بچن نےبھی اسے "مضحکہ خیز" قرار دیا تھا۔ بچن نے کہا "یہ بالکل غلط ہےاور ایسا نہیں کیا جانا چاہئے، یہ بالکل مضحکہ خیز ہے۔ لوگ 30سال سے ترقی پانے کےلئے انتظار کررہے ہیں، وہ اس کے لئے سخت محنت کرتے ہیں، ان لوگوں کا کیاہوگا"۔ جب بل پیش نہیں ہوپایا تو مایاوتی، اور ایک کانگریس کے معاون پارٹی نے کانگریس اور بی جے پی کو اس کے لئے ذمہ دار ٹھہرایا۔ ان کا الزام تھا کہ چونکہ کانگریس چاہتی ہے کہ ان کا امیدوار صدر جمہوریہ الیکشن جیت جائے، اس لئے انہوں نے بل  لانے میں تاخیر کی۔ بی جے پر الزام لگاتے ہوئے کہا کہ بی جے پی سوچ رہی تھی کہ کانگریس کو اس موضوع پر گھیر کر وہ 2014کا لوک سبھا الیکشن جیت سکتی ہے۔ انہوں نے کہاکہ ہم لوگوں نے بی جے پی سے بتایا کہ کولگیٹ کے موازنہ میں ترقی میں ریزرویشن بل زیادہ اہم ہے۔ سماجوادی کی مخالفت کے باوجود راجیہ سبھا میں بل پیش ہوگیا، لیکن لوک سبھا میں زبردست مخالفت کے سبب نہیں پیش ہوسکا۔ بی جے پی نے بھی اس بل کی زبردست مخالفت کی۔ بی جے پی کے سینئر لیڈر مرلی منوہر جوشی نے پارلیمنٹری میٹنگ میں اس کی مخالفت کی تاکہ اعلیٰ طبقے کا ووٹ بی جے پی کے حق میں رہے۔ بعد میں روی شنکر پرساد نے میڈیا کے سامنے اعتراف کیا کہ پرموشن میں ریزرویشن بل کو لے کر پارٹی میں اختلاف ہے۔ بل لانے کا سیاسی قدم نہ صرف اترپردیش میں سماجوادی پارٹی اور بہوجن سماج پارٹی کے اتحاد کے خلاف بی جے پی کی حالت کو مضبوط کرنے کی کوشش بھی ہے بلکہ اس بات پر بھی نظر رکھے گی کہ اس کے اصل پارلیمانی حلقوں سے مخالفت کی آواز کتنی زیادہ موثر ہوتی ہے۔   سہاس منشی کی رپورٹ