بر صغیر کے نابینا نوجوان کی کنگ فیصل یونیورسٹی میں حیرت انگیز کامیابی
12:41PM Mon 3 Jun, 2013
بر صغیر کے نابینا نوجوان کی کنگ فیصل یونیورسٹی میں حیرت انگیز کامیابی
بھٹکلیس نیوز / 03 جون، 13
ریاض / (ایجنسی) ہندستانی ماں اور پاکستانی باپ کے بیٹے نے ناممکن کو ممکن بنا کر حوصلہ ہار جانے والے انسانوں کے لئے واجب تقلید مثال پیدا کر دی۔ نقی نے نا امیدی کو امید میں تبدیل کر نے والی کنگ فیصل یونیورسٹی اور ریاض شہر سے وفاداری اور محبت کا اعتراف کر کے محسنوں کو مستقبل میں اپنے جیسے دیگر انسانوں کے اچھے معاملے کا حوصلہ بھی دیا۔ ایم بی سی چینل کے پریس بیورو اور سعودی الجزیرہ کے کالم نگار فہد بن جلید نے نقی کی کہانی بیان کرتے ہوئے واضح کیا کہ پاکستان اور ہندوستان کے درمیان روایتی کشمکش سے واقف لوگ جانتے ہیں کہ ایک بچّہ کو جسکے آباء و اجداد پاکستان میں رہ رہے ہوں اور ننہالی رشتہ دار ہندوستان میں مقیم ہوں کس قسم کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے ۔ نقی نے اپنی زندگی کے ابتدائی ایّام پاکستان میں گزارے جب یہ پتہ چلا کے وہ نابینا ہے تو اسے بینائی کے علاج کے خاطر ہندوستان کا سفر کرنا پڑا ۔ ڈاکٹروں نے معائنہ کرکے بتایا کہ نقی کی بینائی بحال نہیں ہوسکتی ۔ نقی نہ ہندوستان دیکھا نہ پاکستان اس نے کئی برٹش اسکولوں میں داخلہ لیا۔4/برس بعد والد کو مشرقی سعودیہ میں ملازمت ملی تو وہ مملکت آگیا جبکہ اسکی والدہ کو ایک انٹر نیشنل اسکول میں ٹیچر کی نوکری مل گئی تھی نقی نے بارہویں کا امتحان دے کر ریاض کا رخ کیا کنگ فیصل یونیورسٹی کے ماتحت فیکلیٹی آف انجینئرنگ کے داخلہ کا متمنی تھا ڈین سے ملاقات کے بعد پتہ چلا کہ نابینا ہونے کے باعث اسے داخلہ نہیں دیا جاسکتا ۔ نقی نے چیلنج کیا کہ آپ میرا امتحان تو لیکر دیکھ لیںامتحان لیا گیاتو اس کا رزلٹ 100/فیصد تھا سعودی یونیورسٹی نے چیلنج قبول کیا اس کے لئے خصوصی کورس مرتّب کیا فیکلٹی کے ڈین اور کینڈین پروفیسر گیلی لیس کا کہنا ہے کہ یہ دنیا کا منفرد واقعہ ہے نقی نے ہمیں سکھایا کہ ہم انتہائی مجبوری کے عالم میں اپنے خوابوں کو شرمندہ تعبیر کرنے کیلئے اپنی زندگی کس طرح تبدیل کر سکتے ہیں ۔ نقی نے کورس مکمل کیا نہ صرف یہ کہ اپنے شبعہ میں بلکہ پوری یونیورسٹی میں اوّل آیا ۔ اسے ہارورڈ اور کیمبرج کے کورس کرنے والے سعودی ،غیر ملکی اور طلبہ چشمے والا کہہ کر پکارا کر تے تھے تقریب تقسیم اسناد کے موقع پر تمام طالبات و طلبہ نے نقی کے عزم اور اس کی کامیا بی پر دیر تک تالیاں بجا کر اسے خراج تحسین پیش کی ۔ گورنر ریاض نے اسے سرٹیفکٹ اور توصیفی سند سے نوازا ۔ نقی نماز کا پابند تھا ۔ اب اس کے سامنے تین راستے ہیںوہ کسی امریکی یونیورسٹی میں تعلیم مکمل کرسکتا ہے،ہندوستان یا پاکستان جا سکتا ہے اور سعودی میں شایان شان ملازمت کرسکتا ہیں۔نقی کا کہنا ہے کہ وہ الفیصل یونیورسٹی کو کبھی فراموش نہیں کرسکتا۔اس کی ماں کا کہنا ہے کہ نقی نے ہمیں معجزے کا درس دیا ہے ۔