مودی کی تعریف کو دیوے گوڈا نے قرار دی عام بات؛ بی جے پی کے ساتھ گٹھ جوڑ کی تردید
04:59AM Thu 3 May, 2018
بھٹکلیس نیوز ؍ 03 مئی، 18
بنگلورو؍ (ذرائع) وزیراعظم نریندر مودی اڈپی کے ایک انتخابی جلسہ میں خطاب کے دوران ان کی تعریف کرنے سے متعلق اپنا ردعمل ظاہر کرتے ہوئے سابق وزیراعظم وجے ڈی ایس کے سربراہ نے کہا کہ اس پر کوئی خصوصی توجہ دینے یا حیرت کرنے کی ضرورت نہیں۔ انتخابات کے دوران یہ سب عام ہے۔ بنگلور پریس کلب میں آج منعقدہ پریس سے ملو پروگرام میں بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وزیراعظم ہونے کے ناطے انہیں ملک کے تمام معاملات اور صورتحال کی اطلاع ہوتی ہے۔ ریاست سے متعلق بھی انہیں جانکاری ہوتی ہے، اس میں تعجب کرنے کی ضرورت نہیں۔مودی کے دل میں کیا چل رہاہے مجھے معلوم نہیں۔ اس پر خصوصی توجہ دینے کی بھی کوئی ضرورت نہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایک کنڑیگا وزیراعظم بننے پر جن لوگوں کو فخر ہوناچاہئے انہیں(سدارامیا کو)شاید نہیں۔ میری تنقید کرنے والوں کو یہ سب معلوم نہیں۔ لیکن مودی کو معلوم ہے کہ ایک سابق وزیراعظم کا مقام کیاہے۔ دیوے گوڈا نے بتایا کہ پچھلے لوک سبھا انتخابات کی انتخابی مہم کے دوران مودی نے مجھ پر تنقید کی تھی۔ چک بالاپورمیں منعقدہ ایک انتخابی جلسہ میں مجھ پر برس پڑے تھے۔ شاید اب انہیں احساس ہوا ہے کہ ایک سابق وزیراعظم کا احترام کیسے کیاجاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پچھلے لوک سبھا انتخابات کے دوران میں نے کہاتھا کہ بی جے پی واحد اپنے بل بوتے پر اقتدار حاصل نہیں کرسکتی۔ لیکن نتائج اس کے برعکس ظاہر ہوئے اس لئے میں لوک سبھا رکنیت سے استعفیٰ دینے کے لئے تیار ہوگیاتھا ،لیکن مودی نے خود کہاکہ آپ کے تجربہ کی ہمیں ضرورت ہے، آپ استعفیٰ نہ دیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا تھانہ کہ انتخابات کے موقع پر بہت ساری تنقید اور تعریف ہوتی ہے، اس کو سنجیدگی سے لینے کی ضرورت نہیں۔ اس طرح وہ یہ کہنے سے مجھے اپنا ارادہ بدلنا پڑا۔
راہل کی تنقید نہیں کروں گا۔ دیوے گوڈا نے کہا کہ کانگریس صدر راہل گاندھی کی میں تنقید نہیں کروں گا وہ بہت چھوٹے ہیں۔ لیکن وزیراعلیٰ سدارامیا میری اور میرے بیٹے کمار سوامی پر بار بار تنقید کرتے رہتے ہیں۔ ہم پر یہ جھوٹا اور بے بنیاد الزام لگایاجارہاہے کہ ہم نے بی جے پی لیڈروں سے ملاقات کی تھی۔ اس سلسلہ میں کمارسوامی نے الیکشن کمیشن سے شکایت بھی کی ہے۔
میری تصویر باہر نکال دی:۔نہایت ہی دکھ کا اظہار کرتے ہوئے دیوے گوڈا نے کہا کہ ایک کنڑیگاوزیراعظم ہونے پر فخر ظاہر کرتے ہوئے اس وقت کے وزیراعلیٰ جے ایچ پٹیل نے ودھان سودھا کی تیسری منزل پر وزیراعلیٰ کے دفتر میں میری تصویر آویزاں کی تھی اس کے بعد کے وزراء اعلیٰ یعنی ایس ایم کرشنا، دھرم سنگھ،کمار سوامی یہاں تک کے بی ایس ایڈی یورپا نے بھی اس روایت کو برقرار رکھتے ہوئے میری تصویر وزیراعلیٰ کے دفترسے نہیں نکالی۔ لیکن مجھ سے پرورش پانے والے سدارامیا نے وزیراعلیٰ کا عہدہ سنبھالتے ہوئے سب سے پہلا کام میری تصویروزیراعلیٰ کے دفترسے باہر نکال دی۔ کہا یہ بے عزتی بھولی جاسکتی ہے؟۔یہ سب بی جے پی اور مودی کو معلوم نہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہاسن میں راہل گاندھی کے ذریعہ میری توہین کروائی گئی۔ سدارامیا وقتاً فوقتاً میری توہین کرتے آرہے ہیں۔ میری بے عزتی کتنے دنوں تک کرناممکن ہے؟ ان انتخابات میں ریاست کی عوام اس کا جواب ضرور دے گی۔