جامعہ اسلامیہ بھٹکل میں سال گزشتہ کے ممتاز طلبہ کے مابین تقسیم انعامات کی تقریب

01:19PM Thu 2 Aug, 2018

بھٹکل: 02 اگست، 18 (بھٹکلیس نیوز بیورو)  جامعہ اسلامیہ بھٹکل کے ذمہ داروں نے طلبہ کی علمی و اخلاقی ترقی کے پیش نظر ممتاز طلبہ کے درمیان تشجیعی انعامات کا سلسلہ کچھ سالوں سے شروع کیا ہے، جس میں قابل ذکر الحاج محی الدین منیری صاحب رحمۃ اللہ علیہ کی طرف منسوب یادگار منیری (منیری ایوارڈ)  ہے جو  پورے جامعہ میں اول، دوم آنے والے طلبہ اور درجہ وار ممتاز طلبہ میں تقسیم کیا جاتا ہے اور یہ اعزاز جامعہ اور اس کے جملہ مکاتب کے طلبہ کے مابین تقسیم ہوتا ہے۔ دوسرا سابق مہتمم جامعہ حضرت مولانا عبدالباری صاحب رحمۃ اللہ علیہ کی طرف منسوب (مولانا عبدالباری ندوی تعلیمی ایوارڈ ) جو عالیہ رابعہ یعنی عالمیت کے آخری درجہ کے طلبہ میں 80 سے زائد فیصد لے کر پہلے مقام پر آتا ہے اس کو آٹھ گرام سونے کی گنی اور ایک تمغہ دیا جاتا ہے، امسال مولوی سید جمال ابن سید عمر مالکی نے 83.92 فیصد کے ساتھ یہ اعزاز حاصل کیا ۔ اس کے علاوہ 85 سے زائد فیصد حاصل کرنے والے اور سو فیصد حاضری والےعالمیت و حفظ کے ممتاز طلبہ کو گرانقدر انعامات اور سند سے نوازا جاتا ہے۔ الحمدللہ اس کے بہتر اور مفید نتائج سامنے آرہے ہیں ۔ اس موقع پر جلسہ کی غرض و غایت پیش کرتے ہوئے مولانا عبدالعلیم خطیب ندوی نے تعلیم کے اثرات؛ معاشرہ و زندگی میں اس کے  فوائد و نقصانات پر پُرمغز خطاب فرمایا اور نوجوانوں میں دین بیزاری کی وجوہات کے طور پر حالیہ نظام تعلیم کا نقص اور اسلام دشمن طاقتوں کا تعلیمی اداروں پر قبضہ کو بیان کیا۔ نیز کلمات استقبالیہ اور مہمان خصوصی مولانا خالد صاحب غازی پوری ندوی (استاذ دارالعلوم ندوۃ العلماء لکھنو ) کا مختصراً تعارف پیش ک۔ اس کے بعد مہتمم جامعہ مولانا مقبول احمد صاحب کوبٹے ندوی نے انعامات کی نوعیت واضح کرتے ہوئے نئے عزائم کے ساتھ تعلیمی کارواں میں آگے بڑھنےاور مقاصد کے حصول کی رہنمائی و حسن اختتام کی دعا فرمائی۔ بعد ازاں مہمان خصوصی مولانا خالد صاحب غازی پوری ندوی نے مدارس کی اہمیت اور جامعہ اسلامیہ کا مقام اور اس کی ایک نمایاں حیثیت پر گفتگو فرماتے ہوئے کہا کہ جامعہ اسلامیہ وہ ادارہ ہے جس نے اس علاقہ میں علمی، دینی و فکری خدمات پیش کی ہیں، خصوصاً ساحلی علاقہ میں اس کی خدمات روز روشن کی طرح عیاں اور تابندہ ہیں، مزید فرمایا کہ جامعہ اسلامیہ کی بنیاد صفۂ نبوی سے جڑی ہے، جو علم کا مرکز تھا جہاں آپ  صلی اللہ علیہ وسلم  معلّم اور صحابہ کی ایک معزز جماعت زانوئے تلمذ تہ کررہی تھی۔ اس کے بعد  مولانا رحمت اللہ رکن الدین ندوی نے تقسیم انعامات کی تفصیل پیش کی اور ممتازطلبہ کے مابین انعامات تقسیم کیے گئے۔ رکن شوریٰ مولانا عبدالعلیم صاحب قاسمی نے سنتوں سے محبت، حسن اخلاق اور صحیح تربیت پر خصوصی زور دیا۔ آخر میں ابناء جامعہ منطقۂ شرقیہ کے صدر و سکریٹری مولانا تنویر جوشیدی ندوی اور مولانا شعور  ندوی نے کلمات تہنیت کے ساتھ طلبہ کو مادر علمی سے جڑے رہنے اور اس کی ہر وقت فکر کرتے رہنے کی ترغیب دی۔ ناظم جامعہ جناب ماسٹر شفیع صاحب شہ بندری نے صدارتی خطاب میں قرآن مجید کی تلاوت، مساجد کا احترام، وقت کی پابندی، نمازوں کا اہتمام اور اخلاق کی شائستگی پر زور دیتے ہوئے آج کی جملہ کہی گئی باتوں پر عمل کی تلقین کی۔ نائب ناظم جامعہ مولانا طلحہ صاحب ندوی کی دعا پر جلسہ کا اختتام ہوا۔ اس جلسہ کا آغاز اصغر احمد صدیقی کی تلاوت اور عبداللہ برماور کی نعت سے ہوا اور  نظامت مولانا شعیب ائیکری ندوی نے بحسن و خوبی فرمائی، حاضرین میں اساتذہ و طلبہ کے سرپرستوں کے علاوہ عمائدین شہر کی کثیر تعداد موجود رہی۔