نئی نسل کی دینی و اخلاقی تربیت وقت کی ضرورت !
03:22PM Sun 2 Sep, 2018
اورنگ آباد میں حضرت مولانا محمد ولی رحمانی کا اصلاح معاشرہ کانفرنس سے خطاب
نئی نسل کی تربیت وقت کی اہم ضرورت ہے،والدین کی لا پرواہی اورغفلت کے نتیجے میں نئی نسل دین سے نا واقف ہوتی جارہی ہے،یہاں تک کہ ایسے بچے بھی دیکھنے کو ملتے ہیں جن کو دین کی بنیادی باتوں کا بھی علم نہیں ہوتا، اور وہ کلمۂ طیبہ تک پڑھنا نہیں جانتے۔ان گرانقدر اور فکر انگیز باتوں کااظہارآل انڈیا مسلم پر سنل لا بورڈ کے جنرل سکریٹری حضرت مولانا محمد ولی رحمانی صاحب نے شہر اورنگ آباد میںآل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کے زیر اہتمام دوروزہ اصلاح معاشرہ کانفرنس میں صدارتی خطاب پیش کرتے ہوئے کیا،آپ نے نماز کی اہمیت پر روشنی ڈالتے ہوئے کہاکہ آپﷺ کی معراج یہ تھی کہ آپ آسمانوں پر لے جائے گئے، اور اﷲ کاقرب آپ کوحاصل ہوا، وہاں سے آپ نماز کی شکل میں تحفہ لے کر آئے ،اور فرمایا کہ نماز مسلمانوں کی معراج ہے۔افسوس کہ مسلمان اس معراج سے غافل ہیں۔ بطور خاص فجر کی نماز میں کوتاہی برتی جا رہی ہے۔حضرت مفکر اسلام نے نوجوانوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ اسلام کی بنیاد ی تعلیم پاک و صاف رہنا ہے۔ افسوس کہ بہت سارے نوجوان اس حالت میں ہوتے ہیں کہ وہ مسجد میں نہیں آسکتے۔انہیں سوچنا چاہئے کہ اگر ایسی حالت میں موت آ گئی تو وہ ا ﷲ کے سامنے ناپاکی کی حالت میں حاضر ہوں گے۔
اس سے قبل مولانا جنید الرحمن قاسمی ،مولانا نظام الدین فخر الدین،مولانا عبدالحمید ازہری اورمولانا محفوظ الرحمن فاروقی صاحبان نے خطاب کیا،ان حضرات نے اپنے خطاب میں ملت اسلامیہ کی پستی اور معاشرے میں بڑھتی ہوئی برائیوں پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اصلاحی کوششوں کا دائرہ وسیع کرنے پر زور دیااورعام مسلمانوں کو اصلاح فکر و عمل کی ترغیب دی۔
بورڈ کے سکریٹری مولانا محمد عمرین محفوظ رحمانی صاحب نے اپنے خصوصی خطاب میں اورنگ آباد کی تاریخی جامع مسجد کاحوالہ دیتے ہوئے کہا کہ یہ مسجد جوآج مسلمانوں کی پستی کے مناظر دیکھ رہی ہے اسی مسجد نے مسلمانوں کے عروج و اقبال کا دور بھی دیکھا ہے،اور یہ مسجد اﷲ کے نیک بندوں اور متقی انسانوں کے سجدوں سے آباد رہی ہے۔ اس مسجد نے وہ وقت بھی دیکھا ہے جب حضرت اورنگ زیب عالمگیر ؒ بادشاہ وقت ہونے کے باوجود راتوں کی تاریکی میں ٹوپیاں بن کراور قرآن مجید کی کتابت کر کے حلال اور پاکیزہ روزی حاصل کیا کرتے تھے،انہوں نے حضرت اورنگ زیب ؒ کی زندگی کی طرف متوجہ کرتے ہوئے کہا کہ حرام مال استعمال کرنے والے کی نہ کوئی نفلی عبادت قبول ہوتی ہے اور نہ کوئی فرض عبادت قبول ہوتی ہے،موصوف نے تحفظ شریعت کے عنوان پر خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آج کے حالات تشویش ناک ضرور ہیں، لیکن ایمان والوں کو اس بات کی تعلیم دی گئی ہے کہ وہ مشکل حالات میں ثابت قدم رہیں اور دین وایمان پر جمے رہنے اوردوسروں کوجمانے کی محنت کریں، آپ نے سرکاری نمائندوں کی اس بات کاحوالہ دیتے ہوئے کہ وہ کہتے ہیں کہ شریعت میں تبدیلی کیوں نہیں کی جا سکتی؟ کہا کہ یہ اﷲ کی اتاری ہوئی شریعت ہے اس میں کسی طرح کی کوئی تبدیلی کرنے کاحق انسانوں کوحاصل نہیں ہے۔اللہ کی شریعت نہیں بدل سکتی،البتہ حکومتیں بدلتی رہتی ہیں،آپ نے مسلمانوں کو آمادۂ عمل ہونے کی ترغیب دیتے ہوئے کہا کہ آج کے مشکل حالات ہمیں اس بات کا پیغام دے رہے ہیں کہ ہم اپنے اندر اخلاق و کردار کی مضبوطی پیدا کریں،اعمال و اخلاق کی بدولت اللہ پاک مشکل حالات کو تبدیل کرے گا ،اور آسانی کی راہ پیدا کرے گا۔
واضح ہو کہ آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کے بینر تلے پورے ملک میں اصلاح معاشرہ کے کاموں کا دائرہ منظم اور وسیع کیاجارہا ہے،اور ملک کے مختلف مقامات پر اصلاح معاشرہ کے جلسے منعقد کئے جارہے ہیں۔اسی سلسلے میں اصلاح معاشرہ کمیٹی (اورنگ آباد)کی جانب سے دوروزہ اصلاح معاشرہ کانفرنس کا انعقاد کیا گیا جس کایہ پہلا دن تھا،یہ کانفرنس جامع مسجد بڈی لین اورنگ آباد میں ۳۱؍اگست ۲۰۱۸ء بروز جمعہ منعقد کی گئی،اسٹیج پر امیر شریعت مراٹھواڑہ مولانا معز الدین قاسمی،ناظم جامعہ کاشف العلوم مولانا معز الدین فاروقی ،مفتی نسیم الدین مفتاحی(صدر مدرس جامعہ کاشف العلوم)مولانا صدر الحسن ندوی ،جناب عبدالرشید انجینئر صاحب(رکن بورڈ)اور جناب امتیاز جلیل صاحب(ایم ایل اے اورنگ آباد)وغیرہ بطور خاص شریک رہے۔جب کہ کثیر تعداد میں عام مسلمانوں نے اس کانفرنس میں شرکت کی۔