دہشت گردی : معصوموں کی گرفتاری کا مسئلہ ہوجائے گا؟
02:34PM Wed 5 Jun, 2013
دہشت گردی : معصوموں کی گرفتاری کا مسئلہ ہوجائے گا؟
حکومت اتر پردیش نے کمیشن رپوٹ منظور کرلی ۔ عمل کر نے سی پی آئی کا مطالبہ
لکھنؤ/ (یو این آئی) اتر پردیش حکومت نے 10/ماہ کی تاخیر کے بعد آج ریٹائر آر ڈی کمیشن کی رپوٹ کو منظور کر لیا ہے ، جس کے اندر ریاست میں دہشت گردی کی حرکت کے سلسلہ میں نوجوانوں کی گرفتاری میں کوتاہیوں کا اعتراف کیا گیا ہے ۔ وزیر اعلیٰ اکھلیش یادو کی سربراہی میں ریاستی کا بینہ کی میٹنگ میں اس رپورٹ کو منظور کیا گیا جس کا کافی دن سے انتظار تھا ۔ بعد ازاں اخباری نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوہے یادو نے کہا کہ حکومت نے نمیشن کمیشن کی رپوٹ قبول کر لی ہے ۔ اس ضمن میں کارروائی کی رپوٹ آئندہ مانسون اجلاس کے دوران اسمبلی میں پیش کردی جائے گی ۔ نمیشن کمیشن رپوٹ سے اترپردیش حکومت کا یہ موقف حق بجانب قرار پایا ہے جس میں اس نے 2007ء/ میں فیض آباد روڈ،ورانسی اور لکھنؤ میں ہوئے بم دھماکوں کے ملزمان کے خلاف فوجداری کے مقدمے واپس لینے کا حکم جاری کیا تھا ۔ ہندوستانی کمیونسٹ پارٹی (سی پی آئی) کے سکریٹری اور پی سی پی ٹی کے رہنما اتل کمار انجان نے کہا کہ صرف نمیشن کمیشن کا سوال نہیں ہے بلکہ کئی ایسی رپوٹیں ہیں جنہیں حکومت نے سرد خانے میں ڈال رکھا ہے ۔ انہوں نے الزام لگایا حکومت کا طریقہ کار قانون توڑنے والا ہے ، ہمیں حکومتوں کو مجبور کرنا ہوگا کہ وہ نہ صرف رپورٹوں کو جاری کرے بلکہ اس پر عمل بھی کریں ۔ نمیشن کمیشن پر اترپردیش حکومت کے رویہ سے تنگ آکر پی سی پی ٹی سے اسے شائع کر نے کا فیصلہ کیا تاکہ سچائی عوام کے سامنے آسکے ۔ ساتھ ہی ساتھ انہوں نے یہ بھی کہا کہ یہ معاملہ کسی طبقہ سے وابستہ نہیں ہے بلکہ عوام کا معاملہ ہے ۔ مشہور صحافی اجیت ساہی نے اس موقع پر کہا کہ حکومت کو اس رپوٹ پر سخت ایکشن لینا پڑیگا ورنہ حکومت کو اس کی قیمت آئندہ پارلیمانی انتخابات میں چکانی پڑے گی ۔ ہمیں سیاستدانوں کو مجبور کرنا ہوگا کہ وہ انصاف کریں یہ معاملہ ہندویا مسلمان کا نہیں ہے بلکہ ملک کا معاملہ ہے ۔ پی سی پی ٹی سے وابستہ نوجوان لیڈر عمیق جامعی نے دہشت گردی کے جھوٹے الزام میں گرفتار مسلم نوجواں کی رہائی کے سلسلہ میں جاری پی سی پی ٹی کی کو شش کا ذکر کرتے ہوئے کہا ہمارا نشانہ صرف مسلم نوجواں نہیں ہیں بلکہ ہم ہر ظلم کے خلاف لڑیں گے ۔ واضح رہے کہ خالد مجاہد اور طارق قاسمی کو دہشت گردی کے الزام میں گرفتاری کے حقائق کا پتہ لگانے کے لئے جسٹس آرڈی نشیمن کو 2007ء میں مایاوتی حکومت نے قائم کیا تھا ۔ جسٹس آرڈی نشیمن نے اگست 2012ء سے اسے حکومت کو سونپ دیا تھا ۔ اس کے علاوہ پریس کانفرنس سے خطاب کر نے والوں میں پی سی پی ٹی کے عبد الحفیظ گاندھی ، افروزعالم ساحل اور ضیاء الاسلام شامل تھے ۔