Trump extends Iran ceasefire but maintains blockade
10:41AM Wed 22 Apr, 2026
اسلام آباد راہ تکتا رہا لیکن بات چیت کے لیے ایران کے موقف میں تبدیلی نہیں آئی۔ ادھر، امریکی صدر ٹرمپ نے جنگ بندی میں توسیع کا اعلان کردیا لیکن انھوں نے واضح کیا کہ ناکہ بندی جاری رہے گی۔ صدرٹرمپ کا یہ فیصلہ ان کے سابقہ بیان سے متصادم ہے، جس میں انہوں نے کہا تھا کہ وہ جنگ بندی میں توسیع کے حق میں نہیں ہیں۔
جنگ بندی کا اعلان کرتے ہوئے ٹرمپ نےٹروتھ سوشل پر جاری کردہ بیان میں کہا کہ اس حقیقت کی بنیاد پر کہ ایران کی حکومت داخلی طور پر بٹی ہوئی ہے جو غیر متوقع نہیں۔
اس لیے فیلڈ مارشل عاصم منیر اور پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف کی درخواست پر ہمیں کہا گیا ہے کہ ایران پر حملے کو اس وقت تک روک دیا جائے جب تک ان کے لیڈران اور نمائندے ایک متحدہ تجویز پیش نہ کر دیں۔اس لیے ہم نے فوج کو ناکے بندی جاری رکھنے کی ہدایت دی ہے۔
توسیع کا اعلان بے معنی:ایران
اس بیچ ،خبررساں ادارےایکسیس کی رپورٹ کے مطابق، ایرانی قیادت کے ایک سینئر مشیر نے کہا کہ توسیع شدہ جنگ بندی کا اعلان کوئی معنی نہیں رکھتااور ناکہ بندی جاری رکھنا جنگ کے مترادف سمجھا جائے گا۔ ایران کی فوج نے یہ بھی خبردار کیا ہے کہ امریکہ کی طرف سے کسی بھی حملے کا “فوری اور زبردست جواب دیا جائیگا۔
سفارت کاری کوملے گا مزید وقت: شہباز شریف
جنگ بندی کے اعلان پرپاکستان کے وزیرِ اعظم شہباز شریف نے بدھ کے روز امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا شکریہ ادا کیا ۔ انہوں نے کہا کہ اس اقدام سے سفارت کاری کو مزید وقت ملے گا۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر پوسٹ میں، شہباز شریف نے امید ظاہر کی کہ دونوں فریق جنگ بندی کا احترام جاری رکھیں گے اور ایک پائیدار حل کی طرف بڑھیں گے۔ انہوں نے کہا کہ دونوں فریق جنگ بندی پر قائم رہیں گے اور اسلام آباد میں طے شدہ مذاکرات کے دوسرے دور کے دوران ایک جامع ‘امن معاہدہ’ طے کرنے میں کامیاب ہوں گے۔