مولانا رابع حسنی ندوی کے ہاتھوں بھٹکل میں جامعۃ الصالحات اور اے پی ایس کی نئی عمارت کا افتتاح

09:42AM Fri 5 Jul, 2013

مولانا رابع حسنی ندوی کے ہاتھوں بھٹکل میں جامعۃ الصالحات اور اے پی ایس کی ن/ی عمارت کا افتتاح بھٹکلیس نیوز / 05 جولائ، 13 بھٹکل / بھٹکل یہ جو دنیا اللہ نے بنائی ہےیہ بہت خوبصورت دنیا ہے اور جب آدمی اس دنیا میں مشغول ہوجاتا ہے تو انسان اس دنیا کو بنائے جانے کا اور اس کو پیدا کئے جانے کا جو مقصد ہے وہ بھول جاتا ہے ۔ اللہ تعالی نے دنیا بنائی اور اس میں مخلوق کو بسایا اس لئے نہیں بسایا کہ ہم دنیا میں عیش و آرام کی زندگی بسر کرکے دنیا سے چلے جائیں ۔ اس طرح کا معاملہ تو جانور کے ساتھ ہوتا ہے کہ جانور بچارا اپنے مقصد کو نہیں جانتا وہ جو چاہے کرتا ہے  اور انسان اسکا استعمال کرتا ہے  ان خیالات کا اظہار آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ کے صدر حضرت مولانا سید محمد رابع حسنی ندوی نے جامعۃ الصالحات کی نو تعمیر شدہ عمارت کے افتتاح کے بعد عوام سے خطاب کرتے ہوئے کیا مولانا محترم نے اس موقع پر انسانی ہمدردی پیدا کرنے کی تاکید کرتے ہوئے کہا کہ اللہ تعالی نے انسان کو دوسری مخلوق سے بہتر اور اعلی مخلوق بنایا ہے اس لئے کہ اللہ تعالی اس سے کام لینا چاہتا ہےاس کے لئے اللہ تعالی نے مقصد مقرر کیا ہے کہ دنیا کا نظام اللہ کی مرضی کے مطابق چلایا جائے ۔ دنیا کی زندگی تو محدود ہے اور دیکھتے دیکھتے آدمی کسی بھی عمر میں اس دنیا سے چلا جاتا ہے بہت تھوڑی ہی مدت ہے جس میں آدمی اس دنیا سے فائدہ حاصل کر سکتا ہے ۔ اور جو طویل مدت ہے وہ ہم کو آخرت میں حاصل ہوگی ہم نے اس دنیا جو کام انجام دیا ہے اس کے مطابق اللہ تعالی ہمارے ساتھ معاملہ فرمائے گا ۔ ہم امت مسلمہ کے افراد ہیں اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی امت میں ہیں جن کو اللہ تعالی نے خاتم النبین بنایا اور اپنے دین کو ان پر مکمل کیا اور اس دین کو جامع دین بنایا جس میں دنیا اور آخرت کو اللہ تعالی نے جگہ عطا فرمائی اس دنیا کی جو ضرورت ہے اس کو ہم پورا کریں اور آخرت کی بھی جوضرورت ہے اس کو بھی ہم پورا کریں ایک طرف نہ ہو جائے بلکہ دونوں چیزوں کو ہم جمع کرکے چلیں ۔ مولانا محترم نے تعلیم کی اہمیت پر بات کرتے ہوئے کہا کہ اللہ تعالی نے انسان کو سیکھنے اور سکھانے کی خصوصیات عطا کی ہے ، اور سکھانا صحیح مقصد کے مطابق ہو تو اسکا بڑا فائدہ ہوتا ہے اور اسکے اچھے نتائج سامنےآتے ہیں ، اور اگر اس کا مقصد صحیح نہ ہو تو اس کے برے نتائج سامنے آتے ہیں ۔ سیھکنے کا سلسلہ وہ بلکل بچپنے سے شروع ہوتا ہے جب بچہ ماں کے پیٹ سے باہر آتا ہے تو وہ دنیا کو دیکھتا ہے تو حیران ہو جاتا ہے یہ کیا چیز ہے جس کو وہ پہلے نہیں دیکھ رہاتھا وہ اب دیکھ رہا ہے ۔  جو اسکی سیکھنے کی صلاحیت ہےاس سے وہ جو کچھ دیکھتا ہے تو وہ اس کے دل میں وہ چیزیں اتر جاتی ہیں ۔ والدین اگر اس بات کا خیال رکھیں کےاس کے دل میں اچھی باتیں اتریں تو ان کو چاہیئے کہ اس کے سامنے اچھی باتیں دکھائیں ۔ مولانا موصوف نے اپنی اولاد کی صحیح تربیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ماں صحیح تربیت کی زیادہ ذمہ دار ہوتی ہے ۔ مولانا نے اس موقع پر مچال دیتے ہوئے کہا کہ جتنی بھی بڑی شخصیتیں دنیا میں پیدا ہوئی ہیں جنھوں نے دنیا میں انقلاب پیدا کیا ہے ان سبھوں کی ماں بہت اچھی تھی خود مولانا ابو الحسن علی ندوی رحمۃ اللہ علیہ کی شخصیت میں جو خوبیاں ہیں اس میں بنیادی حصہ ان کی ماں کی تربیت کا تھا ۔ مولانا نت خود غرضی کے بجائے ہمدردی کی صفت اپنانے کی تاکید کرتے ہوئے کہا کہ ہم خود غرضی میں مبتلا نہ ہوں بلکہ دوسروں کی ہمدردی بھی ہم میں ہونی چاہئے اگر ہر شخص خود غرض ہو جائے اور اپنی  ہی فکر میں لگے رہے تو دنیا تباہ ہوجائے گی اور انسان ایک دوسرے سے لڑنے لگیں گے ، جیسے سڑک پر ٹرافک کا کنٹرول نہ ہو تو گاڑیاں ایک دوسرے سے لڑجائیں گی کیوں کہ سب یہ چاہیں گے ہم پہلے نکل جائں اسی میں سواریاں ایک دوسرے سے ٹکڑا جائیں گی اس لئے اس کو کنٹرول کرنا پڑتا ہے ایسے انسانیت بھی ایک ٹرافک ہے اگر اس کو کنٹرول نہ کیا جائے تو انسانیت تباہ ہوجائے گی ۔ مولانا محترم کی دعا پر یہ اجلاس اختتام کو پہنچا ۔ اس کے بعد مولانا کے ہاتھوں علی پبلک میں تعمیر ہوئی نوی عمارت کے پہلے بلاک کا افتتاح کیا گیا ۔ aps-01 aps-02 aps-03 aps-04 jamiatus-salihat-02