تاج محل کے تحفظ کے لئے سبھی فریقوں سے سپریم کورٹ نے مشورے مانگے
02:31PM Tue 28 Aug, 2018
سپریم کورٹ نے آگرہ کے مشہور زمانہ اور تاریخی عمارت تاج محل کے تحفظ کے سلسلے میں تمام متعلقہ فریقوں سے تفصیل کے ساتھ مشورے مانگے ہیں۔ جسٹس مدن بی لوکر کی سربراہی والی خصوصی بنچ نے تاج محل کے تحفظ کے معاملے میں حکومت کے ذریعہ خصوصی کمیٹی کو ایک ماہ میں اپنی تفصیلات سونپنےکا حکم دیا ہے۔ عدالت نے تاج محل کے تحفظ (ٹی ٹی زیڈ) میں صنعتی کمپنیوں کے صحیح اعدادوشمار دستیاب نہ کرانے پر اترپردیش کی حکومت پر زبردست نکتہ چینی کی ہے۔
جسٹس لوکر نے کہا کہ اگر حکومت کے پاس ٹی ٹی زیڈ میں صنعتوں کی تعداد کا صحیح علم نہیں ہے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ اس کے ویژن پیپر کا مسودہ ہی غلط ہے۔ یہ بہت ہی حیرت کی بات ہے کہ ابھی تک حکومت کو یہ نہیں معلوم کہ علاقے میں کتنی صنعتیں چل رہی ہیں۔
عدالت نے یہ تبصرہ اس وقت کیا جب حکومت تاج محل کے تحفظ کے لئے منتخب خصوصی کمیٹی کی رکن پروفیسر میناکشی دوہتے نے بنچ کو بتایا کہ پہلے ریاستی حکومت نے انہیں علاقے کی صنعتوں کی فہرست دی تھی لیکن بعد میں کہا کہ اس میں تبدیلی کی جائے گی کیونکہ فہرست صحیح نہیں ہے۔ عدالت نے شنوائی کے دوران استغاثہ ایم سی مہتا، مرکزی ماحولیاتی تحفظ بورڈ اور اترپردیش حکومت سے تاج محل کے تحفظ کے تعلق سے مشورے مانگے ہیں۔