اے ایم یومیں جناح کی تصویر تنازعہ کا ہندو یواواہنی کا کنکشن اور ہندو جاگرن منچ
02:31PM Mon 14 May, 2018
علی گڑھ: محمد علی جناح کی تصویر کے معاملے میں علی گڑھ مسلم یونیورسٹی (اے ایم یو) میں صرف ہندو مسلم کے مابین جھگڑا نہیں ہوا تھا۔ اس کے ساتھ ساتھ دو ہندو شدت پسند تنظیموں میں بھی رسہ کشی سامنے آئی ہے۔ یہ تنازعہ تھا ہندو یوا واہنی اور ہندو جاگرن منچ کا۔
علی گڑھ کے ممبرپارلیمنٹ ستیش گوتم کے خط کے بعد سب سے پہلے ہندو یوا واہنی کی مخالفت سامنے آئی تھی۔ اس نے یونیورسٹی انتظامیہ کو 48 گھنٹے کے اندر جناح کی تصویر ہٹانے کی وارننگ دی تھی، لیکن دو تین دن بعد ہی ہندو یوا واہنی منظر نامے سے غائب ہوگئی۔ سب سے بڑی مخالف کے شکل میں سامنے تھا ہندو جاگرن منچ۔
دراصل سال 2002 میں ہندو یوا واہنی کی تشکیل یوگی آدتیہ ناتھ نے کی تھی۔ اس تنظیم نے ان کی سیاسی طاقت میں زبردست اضافہ کیا، لیکن 2017 میں یوگی وزیراعلیٰ بن گئے۔ فروری 2017 تک تنظیم میں ریاستی صدر کی ذمہ داری سنبھال رہےیوگی کے قریبی مانے جانے والے سنیل سنگھ کا یوگی سے اختلاف ہوگیا۔ وہ اب ان سے الگ ہوچکے ہیں۔ ان کا دعوی ہے کہ میری ہندو یوا واہنی کے ارکان نے جناح کی تصویر کا معاملہ اٹھایا تھا، لیکن اقتدار پرقابض لوگوں نے کارکنان کوخاموش کروا دیا۔ وہ ہمارے کارکنان تھے، وہی ہندو ہندو جاگرن منچ کا کارکن بتانے لگے تھے۔
ہمارے کارکنان سرکاری دباو سے خوفزدہ ہوگئے تھے۔ ہم جناح کی پرزور مخالفت کرتے رہیں گے۔ میں جلد ہی علی گڑھ جاوں گا، وہیں کارکن جو ہندو جاگرن منچ سے منسلک بتارہے تھے، وہی خود کو ہندو یوا واہنی کارکن بولیں گے۔
آخر جناح کی تصویر کی سب سے زیادہ مخالفت کرنے والی ہندو یوا واہنی اچانک پیچھے کیوں ہوگئی؟ دراصل اس تنظیم کے بانی یوگی آدتیہ ناتھ اب یوپی کے وزیراعلیٰ ہیں۔ ایسے میں اب اگر کسی مسئلے پر یہ تنظیم اختلاف کرتا ہے تو اس سے رشتہ یوگی کا بھی جوڑا جائے گا۔
اس سے حکومت کی شبیہ خراب ہوسکتی ہے۔ بھلے ہی مخالفت کرنے والے لوگ یوگی آدتیہ ناتھ والی ہندو یوا واہنی کے نہ ہوکر سنیل سنگھ کی قیادت والی ہندو یوا واہنی کے رہے ہوں۔
ہندو جاگرن منچ کے ریاستی صدر سنجو بجاج کہتے ہیں کہ ہندو یوا واہنی نے مخالفت نہیں کی۔ یہ مخالفت تھی ہندو جاگرن منچ یوا واہنی کی تھی، جسے ہندو یوا واہنی سمجھا گیا، جو غلط ہے۔ یوگی آدتیہ ناتھ یا سنیل سنگھ کی ہندو یوا واہنی نے جناح کی تصویر تنازعہ پر احتجاج نہیں کیا۔
حالانکہ یوپی بی جے پی کے ترجمان شلبھ منی ترپاٹھی نے سنیل سنگھ کے اس الزامات کو بے بنیاد بتایا ہے، جس میں انہوں نے اقتدار کے دبائو کی بات کہی ہے۔ ترپاٹھی نے کہاکہ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں جناح کی تصویر کے خلاف کئی ہندو تنظیموں نے مخالفت کی تھی۔ اس میں کوئی ایک تنظیم نہیں تھی۔ یوگی آدتیہ ناتھ کے ذریعہ تشکیل کی گئی ہندو یوا واہنی ثقافتی تنظیم ہے۔ یوگی کے آشیرواد کے بغیر کسی اور تنظیم کا کوئی وجود نہیں ہے۔