جموں وکشمیر حکومت کا ایک اور بڑا اقدام ، اردو زبان کو پرائمری سطح تک لازمی مضمون بنانے کا اعلان
09:59AM Sun 27 May, 2018
Share:
سری نگر: جموں وکشمیر حکومت نے ریاست کی سرکاری زبان ’اردو‘ کی ترقی و ترویج کی سمت میں ایک اور بڑا اور غیرمعمولی قدم اٹھاتے ہوئے ریاست کے تمام سرکاری و نجی سکولوں میں ’اردو زبان‘ کو پرائمری سطح تک لازمی مضمون بنانے کا اعلان کردیا ہے۔ اس حوالے سے باضابطہ احکامات پیر کے روز جاری کئے جائیں گے۔ اسکولی تعلیم، حج و اوقاف اور قبائلی امور کے وزیر چودھری ذوالفقار علی نے یو این آئی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ہم نے ریاست کے تمام سرکاری و نجی سکولوں میں اردو زبان کو پرائمری سطح تک لازمی مضمون بنانے کا فیصلہ کرلیا ہے‘۔
انہوں نے مزید کہا کہ اس حوالے سے باضابطہ احکامات پیر کو جاری ہوں گے‘۔ یہ ریاست میں امسال محبوبہ مفتی حکومت کی طرف سے ’اردو زبان‘ کے فروغ کے لئے اٹھایا جانے والا دوسرا قدم ہے۔اس سے قبل 23 فروری کو ’اردو‘ کی ترقی و ترویج کے لئے ’جموں وکشمیر کونسل برائے فروغ اردو زبان‘ نامی ادارے کی تشکیل عمل میں لائی گئی۔
ایک سرکاری عہدیدار نے بتایا کہ اردو کو ریاست کے تمام سکولوں میں پرائمری سطح تک لازمی مضموں کے طور پر پڑھانے سے نہ صرف ریاست کی سرکاری زبان کو فروغ ملے گا بلکہ اس زبان میں ڈگریاں حاصل کرچکے نوجوانوں کو روزگار فراہم ہوگا‘۔ذرائع نے بتایا کہ ریاستی حکومت نے کئی سرکاری محکموں بالخصوص ’محکمہ مال‘ میں ہونے والی تقرریوں کے لئے ’اردو زبان‘ سے واقفیت کو لازمی قراردے رکھا ہے لیکن جموں اور لداخ سے تعلق رکھنے والے بے روزگار نوجوان یہ کہتے ہوئے ’اردو‘ سے واقفیت کو ’ناانصافی‘ قرار دے رہے تھے کہ انہیں اپنے سکولوں میں ’اردو‘ نہیں پڑھائی گئی۔
جموں سے تعلق رکھنے والے ایک نوجوان نے بتایا ’یہ ہمارا دیرینہ مطالبہ تھا کہ اردو کو یا تو تمام سکولوں میں لازمی مضمون کے طور پر پڑھایا جائے یا اسے نوکریوں کے لئے لازمی شرط کے طور پر ہٹایا جائے‘۔