ذات پات کی تفریق کو ختم کیا جائے: پرمیشور

03:50PM Thu 26 Jul, 2018

چتردرگہ:26؍ جولائی (سالارنیوز) جدید دور میں ذات پات اور بھید بھاؤ کو مکمل طور پر ختم کیا جانا چاہئے اور آئندہ کی نسل کو پرسکون زندگی گزارنے کا ماحول فراہم کیا جانا چاہئے۔ یہ بات نائب وزیر اعلیٰ ڈاکٹر جی پرمیشور نے کہی۔انہوں نے یہاں چتردرگہ کے بیلگرے دیہات میں ایکادیشی مہواتسوا اور بیلگرے چھلوادی کٹے منے مہاسمتھانہ کے زیر اہتمام منعقدہ چھوادی رتنا ایوارڈ کی تقسیم کے جلسے میں شرکت کی اور سالو مراداتمکا کو ایوارڈ کی تقسیم کے بعد خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہزاروں سال پہلے ہمارے بزرگوں نے ہنر اور کام کاج کی بنیاد پر ذات پات کا نظام قائم کیا تھا آج اس نظام کو بڑے پیمانے پر اہمیت دی جارہی ہے۔ اونچ نیچ کا فرق کیا جارہا ہے۔ چھلوادی سماج کو سب سے ادنیٰ مانا جاتا ہے۔ ہندوستان میں جس طرح ذات پات کے نظام کو اہمیت دی جاتی ہے کسی دوسرے ملک میں نہیں دی جاتی ۔ہمارے ملک میں ذات کو ہی پہلی ترجیح دی جاتی ہے۔ پرمیشور نے کہا کہ دلت طبقہ میں بھی کئی لوگ تعلیم یافتہ ہیں۔ لیکن ابھی کمی ہے۔ اگر تمام افراد تعلیم یافتہ ہوجائیں تو اس ذات پات کے نظام کو ختم کیاجاسکتاہے۔ انہوں نے دلتوں کو آواز دی کہ ایک وقت کھانا کم کھائیں مگر بچوں کو تعلیم دلانا نہ بھولیں۔بچوں کو اعلیٰ تعلیم دلانے سے ہی اقتدار ہمارے ہاتھ آسکتا ہے۔ صلاحیت اور قابلیت کو کسی ذات کی ضرورت نہیں ہے دنیا بھر میں مقبول دستور ہند لکھنے والے بابا صاحب امبیڈکر کی صلاحیت نے ذات پات کے بھید بھاؤ کو پیچھے چھوڑ دیا۔ آج پوری دنیا میں امبیڈکر کا نام مشہور ہے۔ اسی طرح اونکے وباوا، سالو مردا تمکا بھی ذات پات کے بھید بھاؤ کے مخالف ہیں آج ان کی صلاحیت اور قابلیت کو پوری دنیا سلام کرتی ہے۔ ڈاکٹر جی پرمیشور نے مزید کہا کہ سیاست کسی بھی وقت رخ بدل سکتی ہے۔ میں نے کبھی چاپلوسی کی سیاست نہیں کی ہے ۔ پورے صبر اور اصولوں کی بنیاد پر سیاست کر کے اس مقام تک پہنچا ہوں۔ زندگی میں سادگی اختیار کرنا بہت ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہاں کی گرام پنچایت کی طرف سے 13 مطالبے رکھے گئے ہیں حکومت کی طرف سے ضروری تعاون فراہم کی کوشش کریں گے۔ بلکیرے کٹے منے کی ترقی کیلئے وہ ہمیشہ تیار رہیں گے۔ پرمیشور نے کہا کہ سالو مردا تمکا غریب گھرانے سے تعلق رکھتی ہیں۔ انہیں اولاد نہیں ہورہی تھی، لیکن وہ مایوس نہیں ہوئیں، انہوں نے پودے لگا کر ان کی دیکھ بھال کی اور ان پودوں کی بچوں کی طرح پرورش کی اور ماحولیات دوست بن کر زندگی گزاری یہی وجہ ہے کہ آج بلالحاظ مذہب ہر طبقہ میں مقبول ہیں اور سماجی خدمت انجام دے رہی ہیں۔اس موقع پر رکن پارلیمان چندرپا، رکن اسمبلی رگھو مورتی، رکن قانون ساز کونسل رگھوآچار، سابق ریاستی وزیر سدھاکر اور دیگر موجود تھے۔