کرناٹک میں اویسی نے جے ڈی ایس کو ووٹ دینے کی اپیل کی۔کانگریس اور بی جے پی دونوں کو بتایامسلم دشمن

12:48PM Sat 5 May, 2018

بنگلور(ایجنسی) کرناٹک اسمبلی انتخابات میں مجلس اتحاد المسلمین براہ راست حصہ لینے کے بجائے سابق وزیر اعظم ایچ دیو گوڑا کی پاٹی جے ڈی ایس کی حمایت کررہی ہے ۔شروع میں مجلس اتحاد المسلمین نے از خود میدان میں اتر نے کا فیصلہ کیاتھاتاہم انتخابات کی تاریخ کا اعلان ہونے کے بعد پارٹی سربراہ بیرسٹر اسد الدین اویسی نے کہاکہ مجلس اتحادالمسلمین یہاں اپنے امیدوا ر کھڑے نہیں کرے گی اور جے ڈی ایس کو سپورٹ کرے گی ۔ آج کرناٹک میں ایک ریلی سے خطاب کرتے ہوئے اسد الدین اویسی نے عوام سے جے ڈی ایس کو ووٹ دینے کی اپیل کرتے ہوئے کہاکہ کانگریس اور بی جے پی دونوں نے ملک کی عوام کو دھوکہ دیاہے ۔بی جے پی کی طرح کانگریس بھی مسلم دشمن پارٹی ہے ۔انہوں نے کہاکہ لوک سبھا میں جب طلاق بل پاس ہورہاتھا اس وقت کانگریس نے بی جے پی کا ساتھ دیا تھا ۔انہوں نے کانگریس سے کشن گنج حلقہ کے ایم پی مولانا اسر ار الحق قاسمی کو ایک مرتبہ پھر آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے کہاکہ مولانا دارالعلوم دیوبند کی مجلس شوری کے رکن ہیں لیکن جب شریعت مخالف بل پاس ہونے کا وقت آیاتو وہ مخالفت کرنے کے بجائے پارلیمنٹ چھوڑ کر چلے گئے ۔ بیرسٹر اسد الدین اویسی نے کہاکہ کچھ لوگ یہ کہ رہے کہ جے ڈی ایس بی جے پی کی حمایت کرے گی یہ محض افواہ ہے ،جے ڈی ایس حکومت بنانے جارہی ہے اور تنہاءحکومت بنائے گی ۔نہ تو کانگریس کی واپسی ہورہی ہے اور نہ بی جے پی یہاں سے جیتے گی ۔ واضح رہے کہ کرناٹک میں12 مئی،2018 کو اسمبلی انتخابات کیلئے ووٹ ڈالے جائیں گے جبکہ پندرہ کو گنتی ہوگی ۔ذرائع کے مطابق کانگریس اور بی جے پی کے درمیان براہ راست مقابلہ ہے ،جے ڈی ایس کی طرف عوامی رجحان نہیں ہے ۔اس دوران یہ خبر بھی آر ہی ہے کہ جے ڈی ایس نتائج کے بعد کانگریس کو روکنے کیلئے بی جے پی سے ہاتھ ملاسکتی ہے ۔گذشتہ دوروزمیں پارٹی سربراہ ایچ دیوگوڑا وزیر اعظم نریند ر مودی اور ان کے کاموں کی کئی مرتبہ تعریف بھی کرچکے ہیں ۔حالانکہ ایک ہفتہ قبل ایچ دیوگوڑا نے کہاتھاکہ وہ بی جے پی کے ساتھ نہیں جائیں گے ۔ معروف دانشور اور آل انڈیا ملی کونسل کے جنرل سکریٹری ڈاکٹر محمد منظور عالم نے اپنے ایک مضمون میںکرناٹک اسمبلی انتخابات کا جائزہ لیتے ہوئے لکھاہے کہ جے ڈی ایس پہلے بھی بی جے پی کے ساتھ جاچکی ہے اور اس مرتبہ بھی وہ کانگریس کو روکنے کیلئے یہی کرے گی ۔انہوں اپنے مضمو ن میں کرناٹک کی عوام سے سوچ سمجھ کر ووٹ دینے کی اپیل کرتے ہوئے کہاکہ 2019 کے پیش نظر رکھیں ۔نیز کرناٹک میں کانگریس کی پانچ سالہ کردگی جبکہ مرکز میں بی جے پی کا چارسالہ کارکردگی کابھی تقابلی جائزہ لیں اور ان ریاستوں کی صورت حال بھی دیکھیں جہاں بی جے پی کی حکومت ہے ۔انہوں نے اپنے مضمون میں اویسی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے یہ بھی لکھاہے کہ کچھ لوگ براہ راست بی جے پی کی حمایت کرنے کے بجائے ایک ایسی پارٹی کی حمایت کررہے ہیں جس کا بی جے پی کاساتھ جانا یقینی ہے ۔