فاتح نے جواب میں ریڈیو پیش کار کو بتایا کہ ’’جمعہ کو عید کے پہلے دن صبح سات بجے کے قریب ہم مسقط کی جانب جا رہے تھے لیکن اچانک ہماری کار خراب ہو گئی‘‘۔ انھوں نے اپنی بات جاری رکھتے ہوئے کہا کہ ’’کسٹم افسر نے ہمیں کار کھڑی کرنے کے لیے کہا اور پھر اس کار کو کسی ٹیکسی یا ٹرک کے ساتھ باندھ کر لے جانے کے لیے گاڑیوں کو رکنے کا اشارہ کیا تاکہ ہم اپنے گھر پہنچ سکیں لیکن کسی نے بھی مثبت جواب نہیں دیا کیونکہ یہ عید کا پہلا روز اور ابتدائی وقت تھا‘‘۔ پھر کسٹم افسر سالم بدواوی نے ہمیں اپنی ذاتی کار کی چابیاں دیں اور ہمیں کہا کہ وہ اس کار پر مسقط جا سکتے ہیں۔ اماراتی افسر پہلے حتا میں اپنے گھر تک گئے، وہاں اپنا سامان اتارا اور انھیں کہا کہ وہ اب وہاں سے اپنی جائے منزل تک جانے کے لیے اپنا سفر جاری رکھ سکتے ہیں۔ اس شامی نے بتایا کہ مسقط سے واپسی پر اس افسر نے ہمیں دبئی میں واقع ہمارے گھر پہنچایا اور پھر ان کی خراب کار کو ایک ٹرک سے باندھ کر ایک میکنیک کے پاس پہنچا دیا تاکہ وہ اس کو ٹھیک کرسکے۔