Muslim candidates dominate Congress wins across States

09:02PM Wed 6 May, 2026

مغربی بنگال، تمل ناڈو، کیرالہ، آسام اور پڈوچیری کے اسمبلی انتخاب کے نتائج نے سبھی کو حیران کر دیا ہے۔ ایک طرف جہاں بی جے پی نے مغربی بنگال میں پہلی بار حکومت بنانے میں کامیاب ہوئی وہیں ادکار سے سیاست داں بنے وجے کی ٹی وی کے تمل ناڈو میں سب سے بڑی پارٹی کے طور پر سامنے آئی ہے۔ اس کے علاوہ کیرالہ میں کانگریس کی قیادت والی یونائیٹڈ ڈیموکریٹک فرنٹ (یو ڈی ایف) نے ایک دہائی بعد اقتدار میں واپسی کی ہے۔ اس بار ہر طرف مسلم امیدواروں کی کامیابی کے متعلق باتیں ہو رہی ہیں۔ کیونکہ کئی ریاست میں پارٹی کے صرف مسلم امیدوار ہی جیت حاصل کر پائے ہیں۔
ہندی نیوز پورٹل ’اے بی پی نیوز‘ پر شائع ایک رپورٹ کے مطابق 5 ریاستوں کی 824 اسمبلی سیٹوں میں سے 107 پر مسلم امیدواروں نے جیت درج کی ہے، لیکن بی جے پی کے کھاتے میں ایک بھی مسلم رکن اسمبلی نہیں ہے۔ مغربی بنگال کی 293 سیٹوں (ایک سیٹ پھالٹا پر انتخاب ملتوی کر دیا گیا ہے) پر ہوئے اسمبلی انتخاب میں 40 مسلم امیدوار کامیاب ہوئے ہیں۔ حالانکہ 2021 کے انتخاب میں یہ تعداد 44 تھی، یعنی ٹی ایم سی کے مسلم اراکین کی تعداد 43 سے کم ہو کر 34 رہ گئی ہے۔ جبکہ غیر ٹی ایم سی اور غیر بی جے پی مسلم اراکین کی تعداد ایک سے بڑھ کر 6 ہو گئی ہے۔ ان میں سے کانگریس کے 2، عام جنتا اونین پارٹی (اے جے یو پی) کے 2، سی پی آئی (ایم) اور آئی ایس ایف کے ایک ایک رکن اسمبلی شامل ہیں۔ بی جے پی نے اس بار ایک بھی مسلم امیدوار کو ٹکٹ نہیں دیا تھا۔

140 سیٹوں والی کیرالہ اسمبلی میں 35 مسلم امیدوار پہنچے ہیں، جو مجموعی اراکین اسمبلی کا 25 فیصد ہے۔ 35 مسلم اراکین میں سے 30 حکمراں یونائیٹڈ ڈیموکریٹک فرنٹ (یو ڈی ایف) کے ہیں، جس میں کانگریس کے 8 اور انڈین یونین مسلم لیگ (آئی یو ایم ایل) کے 22 اراکین اسمبلی شامل ہیں۔ اپوزیشن سی پی آئی (ایم) کے 4 اور سی پی آئی کے ایک مسلم رکن اسمبلی منتخب ہو کر آئے ہیں۔ کیرالہ میں مسلم اراکین اسمبلی کی تعداد میں گزشتہ مرتبہ کے مقابلے میں 3 سیٹوں کا اضافہ ہوا ہے، جو یو ڈی ایف کی مضبوطی کو نمایاں کرتا ہے۔

آسام کی 126 اسمبلی سیٹوں پر ہوئے انتخاب میں 22 مسلم امیدوار کامیاب ہو کر آئے ہیں۔ گزشتہ اسمبلی انتخاب میں یہ اعداد و شمار 31 تھا یعنی اس بار 9 سیٹوں کی کمی درج کی گئی ہے۔ سب سے حیرانی والی بات یہ رہی کہ کانگریس کے کل 19 راکین اسمبلی میں سے 18 مسلم ہیں۔ اس کے علاوہ آل انڈیا یونائیٹڈ ڈیموکریٹک فرنٹ (اے آئی یو ڈی ایف) کے 2، رائے جور دَل اور ترنمول کانگریس کا ایک ایک مسلم امیدوار اسمبلی پہنچا ہے۔ سیاسی ماہرین کے مطابق اس تبدیلی کے پیچھے ریاست کے بدلے ہوئے سیاسی حالات اور حد بندیوں کو بڑی وجہ قرار دیا جا رہا ہے۔
تمل ناڈو کی 234 اسمبلی سیٹوں پر ہوئے انتخاب میں اس بار 9 مسلم امیدواروں کو کامیابی حاصل ہوئی ہے۔ ان میں ڈی ایم کے کے 3، انڈین یونین مسلم لیگ کے 2، کانگریس کے ایک اور وجے تھلاپتی کی پارٹی ٹی وی کے 3 مسلم اراکین اسمبلی شامل ہیں۔ ریاست کی 5.86 فیصد مسلم آبادی کے مقابلے اسمبلی میں حصہ داری تقریباً 3 فیصد ہے جو انتہائی کم ہے۔

مرکز کے زیر انتظام علاقہ پڈوچیری کی 30 رکنی اسمبلی میں اس بار ایک ہی مسلم امیدوار پہنچ پائے ہیں۔ ڈی ایم کے کے امیدوار اے ایم ایچ ناظم اکلوتے مسلم رکن اسمبلی بنے ہیں۔ انہوں نے کرائیکل ساؤتھ سیٹ سے جیت حاصل کی ہے۔ 6.05 فیصد مسلم آبادی والی اس ریاست میں یہ صورتحال سیاسی پارٹیوں کی جانب سے مسلم امیدواروں کو نمائندگی کا موقع نہ دیے جانے کا نتیجہ مانا جا رہا ہے۔
قابل ذکر ہے کہ 5 ریاستوں میں مجموعی طور پر 107 مسلم اراکین اسمبلی منتخب ہوئے ہیں، جو کل 824 کے 14.40 فیصد بنتے ہیں۔ حالانکہ ان میں سے ایک بھی بی جے پی کا امیدوار نہیں ہے کیونکہ پارٹی نے کسی بھی مسلمان کو ٹکٹ نہیں دیا تھا۔ کیرالہ اور آسام میں مسلم امیدواروں کی جیت کی شرح 80 فیصد سے زائد رہی، جبکہ تمل ناڈو اور پڈوچیری میں مسلم نمائندگی میں کمی دیکھی گئی۔