ویمنس ونگ آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کے ساتویں ورکشاپ کا حیدرآباد میں کامیاب اختتام؛ علاقہ واری سطح پرسرگرمیوں کو مضبوط کرنے کا کیا گیا عزم!
01:23PM Mon 2 Jul, 2018
حیدرآباد 2/جولائی،2018 (راست) آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کے شعبہ ویمنس ونگ کی طرف سے جاری خواتین کے لئے دو روزہ ورکشاپ جو مؤرخہ ۳۰؍جون کو شروع ہوا تھا، یکم جولائی کو کامیابی کے ساتھ اختتام پذیر ہوا۔
اس ساتویں دو روزہ ورکشاپ میں 28مقامات سے 50سے زائد سرگرم منتخب خاتون مندوبات نے شرکت کیں۔ اس دوروزہ ورکشاپ میں 4اہم نشستیں رکھی گئیں، پہلی نشست میں مسلم پرسنل لا بورڈ کا تعارف، تاریخ اور کام کا دائرہ کار اور شعبہ خواتین کے قیام کا مقصد؛ ان دو اہم عنوانات پر مولانا محمد عمرین محفوظ رحمانی صاحب سکریٹری آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ اور ڈاکٹر اسماء زہر صاحبہ مسؤلہ ویمنس ونگ مسلم پرسنل لا بورڈ نے خطاب کیا۔
دوسری نشست میں احکام شریعت اور مسلم خواتین، نفاذ شریعت میں خواتین کا رول، میڈیا ایک چیلنج، ملک کی بدلتی سیاست اور سماجی برائیاں ایک چیلنج جیسے موضوعات پر بالترتیب محترمہ ذکیہ نفیس صاحبہ دہلی، محترمہ نگہت پروین خان صاحبہ لکھنؤ، محترمہ اے ایس زینب صاحبہ کیرالا، محترمہ فاطمہ مظفر صاحبہ چنئی اور ڈاکٹر اسماء زہرہ صاحبہ نے خطاب کیا۔
ورکشاپ کے دوسرے دن اتوار کو عالمی تحریک مقتنات پر ڈاکٹر اسماء زہرہ نے کلیدی خطاب پیش کیا۔
ورکشاپ کے دوسرے دن کے پہلے سیشن میں خواتین ارکان بورڈ اور دیگر سرگرم خواتین نے اپنے اپنے شہروں/علاقوں (لکھنؤ، دہلی، ممبئی، چنئی، بنگلور، کوذی کوڈ، بھوپال، وجے واڈہ، پونہ، ناگپور، دھولیہ، کولکاتا، پربھنی، دیوبند شموگہ، سنبھل، حیدرآباد) میں کی جانے والی اصلاح معاشرہ کی سرگرمیوں اور تین طلاق بل کے خلاف مظاہرے اور ریلیوں کی رپورٹ پیش کی۔
مولانا محمد عمرین محفوظ رحمانی صاحب سکریٹری آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ نے اپنے کلیدی خطاب میں خواتین کے اجتماعی جلسوں کی رپورٹ پر مسرت کا اظہار کرتے ہوئے تمام خواتین کا شکریہ ادا کیا اور مختصر وقت میں اپنے احتجاجی جلسوں اور موثر ریلیوں کی رپورٹ پیش کرنے پر دعائیہ کلمات سے نوازا۔
آخری سیشن میں طالبات اور نوجوان خواتین میں کام کی ضرورت، کونسلنگ سینٹر کی اہمیت و ضرورت، آل انڈیا مسلم ویمن ہلپ لائن نمبر 18001028426کی کارکردگی کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔
ڈاکٹر اسماء زہرہ نے اختتامی کلمات پیش کرتے ہوئے کہا کہ شریعت اسلامی کی تفہیم، تعلیم، تحفظ، دعوت کی عظیم ذمہ داری کا احساس ہم سب کو ہے، ہم سب کا ایک ہی نظریہ ہے۔یحافظون حدوداللہ۔ اللہ کے حدود کی حفاظت کرنا۔ انہوں نے کہا کہ دعوت و اصلاح کا کام مسلسل کرتے رہنا ہے۔ اللہ کا حکم ہے کہ اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھامے رہو اور آپس میں تفرقہ میں نہ ڈالو، مسلم پرسنل لا بورڈ سے منسلک تمام مکاتب فکر مسالک، جماعتیں، طبقے سب ہمارے ہیں اور ہم ان کے ہیں، صحیح سمت میں سخت جدوجہد کی ضرورت ہے، ہمارا روڈ میپ تیار تھا اور تیار ہے۔ انقلاب نبویؐ کے منہج پر ہم کو اپنی سرگرمیوں کو انجام دینا ہے۔ انہوں نے بہنوں سے گذارش کی کہ وہ علاقہ واری سطح پر سرگرمیوں کو مضبوط و منظم کریں۔
اس ساتویں دو روزہ ورکشاپ میں احتجاجی ریلیوں کی رپورٹ مندرجہ ذیل خواتین نے پیش کیں:
۱۔ محترمہ زینت مہتا صاحبہ نئی دہلی ۲۔ محترمہ آمنہ رضوان صاحبہ لکھنو، ۳۔محترمہ بشری رحمن صاحبہ سنبھل، ۴۔محترمہ خوشیدہ بیگم صاحبہ دیوبند یوپی، ۵۔ محترمہ ممدوحہ ماجد صاحبہ دہلی، ۶ذکیہ شیخ صاحبہ ممبئی، ۷۔ ڈاکٹر عرشیں خان صاحبہ دھولیہ، ۸۔ محترمہ ثوبیہ لولے صاحبہ پونہ، ۹۔ محترمہ صدیقہ صاحبہ پربھنی، ۱۰۔ محترمہ عظمی پاریکھ صاحبہ ناگپور، ۱۱۔ محترمہ صالحہ رضوان مومناتی صاحبہ بھوپال، ۱۲۔ محترمہ فاطمہ مظفر صاحبہ چنئی، ۱۳۔ محترمہ ڈاکٹر آصفہ نثار صاحبہ بنگلور، ۱۴۔ محترمہ رحمت النساء صاحبہ شموگہ، ۱۴۔ محترمہ نیلم غزالہ صاحبہ کولکاتا، ۱۵۔ محترمہ ایے ایس زینب فاطمہ صاحبہ کیرالا۔
اس دو روزہ ورکشاپ میں خاص طور پر طے کیا گیا کہ:
۱۔ خواتین و طالبات میں دعوت دین اصلاح معاشرہ کی سرگرمیوں کو علاقہ واری سطح پر منظم کئے جائیں، لڑکیوں کیلئے علیحدہ پروگرامس رکھے جائیں۔
۲۔ کونسلنگ سینٹرس کا قیام اور آل انڈیا مسلم ویمن ہلپ لائن کو عام کیا جائے۔
۳۔ خواتین کے لئے تربیتی پروگرام کے انعقاد اور علاقہ واری سطح پر تربیتی پروگرامس منعقد کئے جائیں۔
اس ساتویں دو روزہ ورکشاپ میں احتجاجی ریلیوں کی رپورٹ مندرجہ ذیل خواتین نے پیش کیں:
۱۔ محترمہ زینت مہتا صاحبہ نئی دہلی ۲۔ محترمہ آمنہ رضوان صاحبہ لکھنو، ۳۔محترمہ بشری رحمن صاحبہ سنبھل، ۴۔محترمہ خوشیدہ بیگم صاحبہ دیوبند یوپی، ۵۔ محترمہ ممدوحہ ماجد صاحبہ دہلی، ۶ذکیہ شیخ صاحبہ ممبئی، ۷۔ ڈاکٹر عرشیں خان صاحبہ دھولیہ، ۸۔ محترمہ ثوبیہ لولے صاحبہ پونہ، ۹۔ محترمہ صدیقہ صاحبہ پربھنی، ۱۰۔ محترمہ عظمی پاریکھ صاحبہ ناگپور، ۱۱۔ محترمہ صالحہ رضوان مومناتی صاحبہ بھوپال، ۱۲۔ محترمہ فاطمہ مظفر صاحبہ چنئی، ۱۳۔ محترمہ ڈاکٹر آصفہ نثار صاحبہ بنگلور، ۱۴۔ محترمہ رحمت النساء صاحبہ شموگہ، ۱۴۔ محترمہ نیلم غزالہ صاحبہ کولکاتا، ۱۵۔ محترمہ ایے ایس زینب فاطمہ صاحبہ کیرالا۔
اس دو روزہ ورکشاپ میں خاص طور پر طے کیا گیا کہ:
۱۔ خواتین و طالبات میں دعوت دین اصلاح معاشرہ کی سرگرمیوں کو علاقہ واری سطح پر منظم کئے جائیں، لڑکیوں کیلئے علیحدہ پروگرامس رکھے جائیں۔
۲۔ کونسلنگ سینٹرس کا قیام اور آل انڈیا مسلم ویمن ہلپ لائن کو عام کیا جائے۔
۳۔ خواتین کے لئے تربیتی پروگرام کے انعقاد اور علاقہ واری سطح پر تربیتی پروگرامس منعقد کئے جائیں۔