مختلف مذہبوں اور تہذیبوں کی باتوں کو جمع کرکے پرسنل لا بنانا بالکل غلط: پرسنل لا بورڈ
01:24PM Tue 31 Jul, 2018
چیرمین لا کمیشن آف انڈیا کے نام مولانا محمد ولی رحمانی کامکتوب نئی دہلی 31 جولائی(پریس ریلیز) ’’اس ملک کے باشندے الگ الگ مذہب ، الگ کلچراور الگ روایات کے ماننے والے ہیں، اور وہ اپنے اپنے طریقے سے زندگی گذار رہے ہیں، جس کی وجہ سے ان میںکوئی ناہمواری یا دشواری نہیں ہے، اس لیے اس میں کسی تبدیلی کی ضرورت نہیں، یوںبھی مذہبی روایات اور سماجی کلچر گورنمنٹ کاموضوع نہیںہے، اس لیے حکومت کو ایسی چیزوںمیں دخل نہیں دینا چاہئے،اورنہ لا کمیشن کو مشورہ دینا چاہئے کہ حکومت ان چیزوںمیںہاتھ ڈالے، ‘‘ یہ باتیں مفکراسلام حضرت مولانا محمد ولی رحمانی صاحب جنرل سکریٹری آل انڈیامسلم پرسنل لابورڈنے لاکمیشن کے نام اپنے مکتوب میں کہی ہے۔انہوںنے لا کمیشن کے چیرمین کو مخاطب کرتے ہوئے لکھا ہے کہ آپ نے ۲۱؍مئی ۲۰۱۸ء کو مسلم پرسنل لا بورڈ کے وفد سے ملاقات کرتے ہوئے کہا تھا کہ ابھی یونیفارم سول کوڈ قابل عمل نہیں ہے، مگر یہ ہوسکتاہے کہ مختلف مذاہب کی اچھی باتوں کو لے کر ایک مشترک قانون ملک میں نافذ کیا جائے، آپ نے مثال دیتے ہوئے کہا تھا کہ ہندوؤں میں وراثت کا قانون اس کی اجازت دیتا ہے کہ فیملی کا بڑا آدمی اگر زندگی میں چاہے تو جائیداد تقسیم نہ کرکے کسی ایک شخص کے حوالے کردے، لیکن مسلمان اپنی جائیداد میں ایک تہائی کی ہی وصیت کرسکتا ہے،پوری جائیداد کسی کونہیں دے سکتا، آپ نے یہ بھی کہا تھا کہ اسلام کی یہ بات مجھے پسند آتی ہے، اور میں چاہتا ہوںکہ یہ قانون ہندوستان کے تمام لوگوںکے لیے بنا دیا جائے، اسی طرح ہندو سماج میںایک بیوی کاقانون ہے، یہ بہت بہتر ہے، اس قانون کو بھی ملک کے تمام افراد پر نافذکردیا جائے____ لیکن جسٹس صاحب! آل انڈیامسلم پرسنل لابورڈ آپ کے اس ذہن سے اتفاق نہیںرکھتا ہے، یہ انداز فکر آئین ہند کی بنیادی دفعات کے خلاف ہے، اور ملک میںایک نئی بے چینی پیدا کرنیوالا ہے، اورآپ کا یہ ذہن یونیفارم سول کوڈ کی طرف بڑھ رہا ہے، اس ملک میں الگ الگ مذاہب ، روایات اور کلچر پر عمل کرنیوالے لوگ بستے ہیں، اوریہ اس ملک کا حسن ہے، آپ اسے یک رنگی کی طرف لے جاکر ملک کا حسن ختم نہ کیجئے،مولانا محمدولی رحمانی جنرل سکریٹری بورڈ نے لکھا ہے کہ ہندو وراثت کاقانون پارلیمنٹ نے پاس کیا ہے، پارلیمنٹ جب چاہے اس میںترمیم کرسکتی ہے، لیکن اسلامی قانون وراثت کی بنیاد قرآن وحدیث پر ہے، جو نہ صرف صدیوں سے مسلمانوں کے عمل میں محفوظ ہے، بلکہ آئین کی بنیادی حقوق کی دفعات میں بھی اس کی حفاظت کاوعدہ کیا گیا ہے۔یک زوجگی کے سلسلہ میںمولانا محمدولی رحمانی جنرل سکریٹری بورڈنے اپنے مکتوب میں لکھا ہے کہ آپ کو یہ محسوس کرنا چاہئے کہ ایک سے زیادہ چار شادی تک کرنے کی اجازت قرآن مجید نے ایک شرط کیساتھ دی ہے، کہ بیویوںکے درمیان پورا انصاف کرنا ہوگا، اور جو یہ سمجھتا ہے کہ انصاف نہ کرسکے گا، اسے صرف ایک شادی کی اجازت دی گئی ہے، یہ بھی حقیقت ہے کہ ایک سے زیادہ شادی، انسان کی ضرورت ہوسکتی ہے، اسی لیے گرچہ ہندوؤں میںایک شادی کا قانون موجود ہے، بھر بھی ہندوؤ ںمیںایک سے زیادہ شادی کا تناسب مسلمانوں کے مقابلے زیادہ ہے۔ مولانا محمد ولی رحمانی جنرل سکریٹری بورڈ نے لا کمیشن کے چیرمین کو یہ بھی لکھا ہے کہ میری رائے ہے کہ حکومت کو مشورہ دیتے وقت آپ کو ایسی انسانی ضرورتوںکا بھی خیال رکھنا چاہئے، آپ حکومت کو ضرور رپورٹ دیں ،مگر ایسا نہ ہو کہ آپ کی رپورٹ ملک میںنئے اختلاف اورنئی ناہمواری کا ذریعہ بن جائے۔