یومِ صحافت کے موقع پر یونین کی جانب سے اجلاس

05:46PM Sun 28 Jul, 2013

یومِ صحافت کے موقع پر یونین کی جانب سے اجلاس bidar02 bidar03 bidar05 بھٹکلیس نیوز / 28 جولائی،2013 گلبرگہ/ (نامہ نگار) ڈاکٹر ماجد داغی نمائندہ روزنامہ’’ منصف‘‘حیدرآباد کو اُن کے نمایاں خدمات کا اعتراف کرتے ہوئے کرناٹک یونین آف ورکنگ جرنلسٹس کی جانب سے آج صبح حیدرآباد کرناٹک چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹریز گلبرگہ کے ایس ۔آر۔ راگھو جی اڈیٹوریم میں منعقدہ جلسہ یوم صحافت و تہنیت ’ کے موقع پر الحاج قمر الاسلام ریاستی وزیر بلدی نظم ونسق ،پبلک انٹر پرائزس ،وقف وحج کے ہاتھوں یادگار تحفہ ، سند ، کیسہ زر کے ساتھ شال اُڑھا کر گلپوشی کرتے ہوئے’’ گرینوبلس ایوارڈ‘‘پیش کیا گیا ۔ اس موقع پر ڈاکٹر شرن پرکاش پاٹل ریاستی وزیر برائے طبی تعلیم ،شری گنگا دھر مدیولیار صدر ریاستی یونین بنگلور، شری بابو راؤ یڈرامی صدر ضلع یونین او رضلعی عہدیدار محکمہ نشر و اشاعت موجود تھے۔ ڈاکٹر ماجد داغی کا تعلق ضلع بیدر کی تاریخ ساز اور ادب پرور سرزمین چٹگوپہ (معین آباد) سے ہے۔آپ کا پورا نام محمد ماجد علی اور والد بزرگوار کا نام محمد محبوب علی پٹیل موگہہ ہے۔ آپ کی ابتدائی تعلیم اپنے وطن مالوف میں ہوئی اور دانش گاہ ِ گل و برگ’’ گلبرگہ یونیورسٹی گلبرگہ‘‘ سے 1990ء میں اُردو سے ایم ۔اے کیا اور13!جون1995میں گلبرگہ یونیورسٹی گلبرگہ نے ان کے تحقیقی مقالہ’’ ضلع کرنول میں اُردو زبان و ادب اور صحافت کا مطالعہ ، آزادی کے بعد‘‘ پر پی۔ایچ ڈی کی ڈگری تفویض کی، الہ آباد یونیورسٹی سے ہندی ساہتیہ سمیلن کے مماثل B-Ed.امتحان میں شرکت کرتے ہوئے 2000ء میں درجہ اول کامیابی حاصل کی۔ 1980کے بعد جن قلمکاروں نے گیسوئے اردو سنوارنے کا بیڑہ اُٹھایا ہے ان میں ایک اہم اور معتبر نام ڈاکٹر ماجد داغی کا ہے جو ربع صدی سے سرزمین دکن کے ادبی اُفق پر اپنی حیات آفریں فکر کی کرنیں بکھیرنے میں مصروف ہیں۔ ڈاکٹر ماجد داغی بیک وقت شاعر، ادیب اور صحافی کے مناصب جلیلہ پر فائز سماج کی ناہمواریوں اور ناانصافیوں سے نبرد آزما ہیں اور عصر حسیت سے مملو تخلیقات کے ذریعہ ہم عصروں میں اپنی الگ پہچان رکھتے ہیں۔ ڈاکٹر ماجد داغی کو روزنامہ منصف حیدرآباد نے یکم/اپریل2006ء میں ’’ بیسٹ رپورٹر آف کرناٹک اسٹیٹ‘‘ ایوارڈ سے نوازا تھا ۔ یہ اعزاز روزنامہ منصف حیدرآباد کے آڈیٹوریم میں منعقدہ منصف ایوارڈس تقریب میں جناب خان عبداللطیف خان ایڈیٹر انچیف روزنامہ منصف نے ڈاکٹر ماجد داغی کو بہترین صحافتی خدمات پر تہنیت پیش کرتے ہوئے ’’ قلم گوید کہ می شاہ جہانم‘کے علامتی مومنٹو سے سرفراز کیا۔ ڈاکٹر ماجد داغی کو روزنامہ منصف نے اس قبل جنوری 2003ء میں بھی ’’ایکسلنٹ رپورٹر‘‘ کا اعزاز تفویض کیا تھا۔ ڈاکٹر ماجد داغی کو ملک و بیرون ملک کی کئی ادبی ،سماجی تنظیموں سے ان کی ادبی و قومی یکجہتی خدمات پر اعزازات عطا کئے ہیں۔ امریکن بیوگرفیکل انسٹی ٹیوٹ نارتھ کیرولینا نے8!سپٹمبر2000ء میں ڈاکٹر ماجد داغی کو ’’ مین آف دی ائیر2000‘‘ اور ہندی پرچار سمیتی آندھرا پردیش نے14/ستمبر2000میں ’’ سیوا ہیرو‘‘اور31/ڈسمبر2000ء میں ہندی دیوس کے موقع پر ’’ سیوا بھوشن‘‘کے سنمان سے نوازا۔ ساکشرتا سمیتی ضلع بیدر کے صدر نشین ڈپٹی کمشنر بیدر نے مدرسہ محمود گاؤں میں 26/نومبر1995ء میں قومی یکجہتی اعزاز سے نوازا اور ضلع بیدر کے ہوٹگی گرام پنچایت نے ان کی قومی یکجہتی اور لسانی یگانگت کیلئے کی جارہی جدوجہد پر تہنیت پیش کرتے ہوئے ’’ایک یادگار تحفہ‘‘ عطاکیا ۔ راشٹریہ سنت شری کمل منی کملیش نے شری ایس ایس جین ٹرسٹ چنئی میں ایک قومی تقریب میں قومی و لسانی یکجہتی پر ان کی ادبی و تنظیمی خدمات کا اعتراف کرتے ہوئے اعزاز بخشا اور اسی طرح کرناٹک راجیہ اُردو ٹیچرس اسو سی ایشن گلبرگہ نے14/نومبر2005ء اور حضرت سید شاہ محمد محمد الحسینی صاحب قبلہ سجادہ نشین بارگاہ حضرت خواجہ بندہ نوازؒ نے حضرت خواجہ بندہ نواز ؒ کے 600سالانہ عرس تقاریب کے موقع پر 2005ء میں منعقدہ جلسہ تقسیم اسناد و انعامات میں صحافتی خدمات پر توصیفی سند عطا کی اور موجودہ سجادہ نشین بارگاہ حضرت بندہ نواز ڈاکٹر حضرت سید شاہ گیسودرازخسرو حسینی نے602سالہ عرس شریف کے موقع پر جلسہ تقسیم اسناد میں بدست سابق رکن اسمبلی رائچور جناب سید یسٰین صاحب کے ہاتھوں ان کی صحافتی خدمات کا اعتراف کرتے ہوئے توصیفی سند سے نوازا۔حکومت کرناٹک نے ڈاکٹر ماجد داغی کو1995ء میں رکن کرناٹک اُردو اکاڈمی بنگلور نامزد کیا اور تین سالہ خدمات کے دوران انہوں نے کئی یادگار پروگرامس اور اہم خدمات انجام دیں۔ کرناٹک اُردو اکاڈمی بنگلور نے ’’ بہترین نثری خدمات ایوارڈ2007‘‘بدست سابق وزیر اعلیٰ دھرم سنگھ کے ہاتھوں عطا کیا۔ اور 2008ء میں وزیر اعلیٰ یڈی یورپا کے ہاتھوں ’’ بیسٹ رائٹر‘‘ کے ایوارڈ سے نوازا گیا۔انہوں نے قومی اور ریاستی سطح کے 20سے زائد سمیناروں میں مختلف موضوعات پر تنقیدی و تحقیقاتی مقالات پیش کئے اور25سے زائد تحقیقاتی و تنقیدی مضامین ملک کے موقر جرنلس میں شائع ہوئے جبکہ آل انڈیا ریڈیو گلبرگہ،دھارواڑ اور حیدرآباد سے50سے زائد پروگرام نشر کروائے ہیں۔ان کا پہلا تنقیدی مضامین کا مجموعہ ’’ فن کے کچھ نئے تنقیدی زاوئے‘‘2010ء میں ایجوکیشنل پبلی شنگ ہوز نئی دہلی سے شائع ہوا جبکہ ان کے نظموں کا مجموعہ ’’ زوال آدم‘‘ کرناٹک اُردو اکاڈمی بنگلور نے2011ء میں شائع کیا۔جس کی رسم اجراء راج بھون میں گورنر کرناٹک شری بھردواج کے ہاتھوں انجام پایا۔اس موقع پر انہیں 10000/-روپیئوں کا چیک مومنٹو کے ساتھ شال و گلپوشی سے تہنیت پیش کی گئی۔ ڈاکٹر ماجد داغی مہمان لکچرر کی حیثیت سے شعبہ اُردو گلبرگہ یونیورسٹی میں8برسوں تک درس و تدریس کی خدمات انجام دیں۔ آپ کو اکھل بھارت رچناتمک سماج نئی دہلی نے’’ ساوتھ ایشن پیس کانفرنس اینڈ پیس مارچ‘‘ جو چنئی میں 4،5،6!اگست2001میں منعقد ہوا، خصوصی مندوب کی حیثیت سے مدعو کیا۔سنٹر فار اومینس ڈیولپمنٹ اسٹڈیزCWDSاور ڈی منسٹر فار ایڈوکیسی اینڈ ریسرچCFARکے اشتراک سے5،6اور 7!ڈسمبر2004ء میں اولڈ انکر بیچ گوا میں ’’ پیدائش سے قبل دختر کی شناخت‘‘ پر قومی سطح کے ورکشاپ میں مدعو کیا اور اسی موضوع پر ویموچنا فارویمنس رائٹس بنگلور کے زیر اہتمام منڈیا ضلع میں منعقدہ ایک روزہ ورکشاپ ’’ پیدائش سے قبل دختر کشی اور اسقاط حمل‘‘ میں شرکت کی دعوت پر قانون ، طب ، اخلاقیات، آبادی اور سماجیات و مردم شمار شعبہ جات کے ماہرین سے تبادلہ خیال کرتے ہوئے اپنے مشوروں کو قلم بند کروایا۔ڈاکٹر ماجد داغی تقریباً دس برسوں سے روزنامہ منصف کے اسٹاف رپورٹر کی حیثیت سے خدمات انجام دے رہے ہیں ۔جن کا تعلق شہر کے کئی ادبی و سماجی تنظیموں سے ہے۔