صدر ٹرمپ کا شام سے امریکی افواج کو واپس بلانے کا اعلان
03:37PM Sat 31 Mar, 2018
ویسٹ پام بیچ۔ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے اپنے اعلیٰ مشیروں سے کہا ہے کہ شام میں بین الاقوامی دہشت گرد تنظیم اسلامک اسٹیٹ کے خلاف مہم میں مصروف امریکی فوجیوں کی وہ جلد واپسی چاہتے ہیں۔ یہ اطلاع سرکاری ذرائع نے دی ہے۔ بتایا جا رہا ہے کہ اگلے ہفتے قومی سلامتی کونسل کی میٹنگ ہونے والی ہے اور اس میں شام میں اسلامک اسٹیٹ کے خلاف امریکی کارروائیوں پر تبادلہ خیال کیا جائے گا۔ اس معاملے سے جڑے دو سب سے ٹاپ حکام نے کل ’وال اسٹریٹ جرنل‘ کو تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ ٹرمپ نے شام میں راحت آپریشن کے لئے دی جانے والی 20 كروڑ ڈالر کی رقم پر روک لگا دی ہے۔
وزیر خارجہ ریكس ٹیلرسن نے کویت میں ایک میٹنگ میں اس مقصد کا اعلان کیا تھا کہ شام میں اسلامک اسٹیٹ کے قبضے سے چھڑائے گئے علاقوں کو حالات میں بہتری لانے کے لئے مزید 20 كروڑ ڈالر کی رقم دی جائے گی۔ امریکی قومی سلامتی کونسل کے ترجمان نے بتایا کہ صدر کے احکامات کے مطابق وزارت خارجہ میں مسلسل صورتحال کا جائزہ لیا جا رہا ہے کہ کس طرح مدد بڑھائی جائے۔ قابل غور ہے کہ جمعہ کو ٹرمپ نے کہا تھا’’اب شام میں دوسرے فریقوں کو بھی دیکھ بھال کرنے دو اور ہم وہاں سے بہت جلد واپس آ رہے ہیں۔ ہمارے فوجی وطن لوٹیں گے اور وہاں کی ذمہ داری کسی اور کو لینی ہو گی‘‘۔
امریکی وزارت دفاع پنٹاگن کے مطابق عراق اور شام میں اسلامک اسٹیٹ کے قبضہ سے 98 فیصد علاقے کو آزاد کرایا جا چکا ہے اور اگر وہاں حالات معمول نہیں آئے تو یہ دہشت گرد پھر سرگرم ہو سکتے ہیں۔