کرناٹک : لنگایت معاملہ پر کانگریس میں پھوٹ ! بی جے پی میں جاسکتے ہیں پارٹی کے سینئر لیڈر شیو شنکرپا
03:07PM Thu 22 Mar, 2018
بنگلورو : کرناٹک میں لنگایت برادری کو الگ مذہب کا درجہ دینے کی سفارش کے بعد حکمراں کانگریس میں پھوٹ پڑتی نظر آرہی ہے ۔ کانگریس ممبر اسمبلی شمنور شیو شنکرپا اور ان کے بیٹے اور وزیر مملکت ایس ایس ملکاارجن نے اپنی ہی پارٹی کے خلاف بغاوت کا اعلان کردیا ہے ۔ شیوشنکرپا کو وسطی کرناٹک سے ویر شیو -لنگایت کمیونٹی کا ایک طاقت ور لیڈر مانا جاتا ہے ۔ دونوں نے اس بات کا بھی اشارہ دیاہے کہ وہ بی جے پی میں شامل ہونے کیلئے پارٹی بھی چھوڑ سکتے ہیں۔
شمنور شیوشنکرپا اکھل بھارتیہ ویر شیو - لنگایت کمیونٹی کے صدر بھی ہیں۔ شیوشنکرپا نے پیر کو لنگایت کمیونٹی کو الگ مذہب کا درجہ دئے جانے کی سفارش کا خیر مقدم کیا تھا ، لیکن اگلے دن ہی انہون نے یو ٹرن لے لیا۔
انہوں نے میڈیا سے بات چیت میں کہا کہ میں نے پیر کو جلد بازی میں فیصلہ کا خیر مقدم کیا تھا ، مجھے اب احساس ہوگیا ہے کہ یہ ایک غلطی تھی ، کیونکہ مرکزی حکومت کو بھیجے گئے ریاست کے سفارش نامہ میں واضح طور پر کہا گیا ہے کہ جو کوئی بھی اس مذہب کو مانے گا اس کو اقلیتی کا درجہ دیا جاسکتا ہے ، ہم اس کی مخالفت کررہے ہیں کیونکہ ویر شیو کمیونٹی ، باسوننا سے پہلے بھی تھی ، جس نے 12 ویں صدی میں لنگایت مذہب کی بنیاد رکھی تھی ، ہمیں لگتا ہے کہ حکومت نے دھوکہ کیا ہے۔
ان لیڈروں کی بغاوت کے فورا بعد ہی کرناٹک میں بی جے پی کے ریاستی صدر بی ایس یدی یورپا نے کہا کہ کانگریس کے ایک بڑے لیڈر بی جے پی میں شامل ہوسکتے ہیں۔ ذرائع کے مطابق جمعہ کو راجیہ سبھا الیکشن کے بعد شیوشنکرپا اور ان کے بیٹے ایس ایس ملکاارجن دونوں بی جے پی میں شامل ہوجائیں گے۔