Iran introduces new mechanism for ship movements in Strait of Hormuz
08:53PM Wed 6 May, 2026
تہران: ایران نے آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں کی نقل و حرکت کو کنٹرول کرنے کے لیے ایک نیا نظام نافذ کر دیا ہے، جس کے تحت اس اہم سمندری راستے سے گزرنے والے تمام جہازوں کو ایرانی حکام سے پیشگی اجازت لینا ہوگی۔ سرکاری میڈیا کے مطابق یہ اقدام ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب خطے میں امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی مسلسل بڑھ رہی ہے اور سمندری راستوں پر فوجی دباؤ میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔
ایرانی سرکاری ٹی وی کے مطابق نئے ضابطوں کے تحت تمام جہازوں کو ای میل کے ذریعے ایرانی حکام سے اجازت حاصل کرنا ہوگی۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ جہاز رانی سے وابستہ کمپنیوں کو اپنی عملی کارروائیوں اور سفری طریقہ کار میں فوری تبدیلیاں کرنا ہوں گی تاکہ نئی ایرانی پالیسی پر عمل درآمد یقینی بنایا جا سکے۔ ایران نے اس اقدام کو ’خود مختار حکمرانی کا نظام‘ قرار دیا ہے، جس کا مقصد آبنائے ہرمز میں ملکی نگرانی اور کنٹرول کو مزید مضبوط بنانا بتایا جا رہا ہے۔
ایران نے فروری کے آخر سے اس حساس سمندری راستے پر اپنی پالیسی سخت کر دی تھی۔ تہران نے اس سے قبل اعلان کیا تھا کہ اسرائیل اور امریکہ سے وابستہ جہازوں کو محفوظ راستہ فراہم نہیں کیا جائے گا۔ ایرانی حکام کے مطابق یہ فیصلہ ایرانی سرزمین پر مشترکہ حملوں کے بعد کیا گیا تھا۔ اب ایرانی پارلیمنٹ بھی ایسے قانون پر غور کر رہی ہے جس کے تحت اسرائیل اور امریکہ سے تعلق رکھنے والے جہازوں پر باضابطہ پابندیاں عائد کی جائیں گی، جبکہ دیگر غیر دشمن ممالک کے جہازوں پر ٹول یا فیس نافذ کرنے کی تجویز بھی زیر غور ہے۔
دوسری جانب امریکہ نے بھی ایرانی بندرگاہوں کی طرف آنے اور جانے والے جہازوں پر نئی پابندیاں عائد کی ہیں۔ یہ اقدامات تہران کے ساتھ جنگ بندی سے متعلق ناکام مذاکرات کے بعد سامنے آئے ہیں۔ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے اعلان کیا ہے کہ امریکہ آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں کو فوجی نگرانی اور تحفظ فراہم کرے گا۔ امریکی انتظامیہ نے اس کارروائی کو ’آپریشن فریڈم‘ کا نام دیتے ہوئے اسے انسانی اور حفاظتی مشن قرار دیا ہے۔
امریکی اعلان کے بعد ایران نے سخت ردعمل ظاہر کیا ہے۔ ایرانی مشترکہ فوجی ہیڈکوارٹر ’خاتم الانبیا سینٹرل ہیڈکوارٹر‘ نے خبردار کیا ہے کہ اگر کوئی غیر ملکی مسلح فورس، خاص طور پر امریکی فوج، آبنائے ہرمز کے قریب آنے یا داخل ہونے کی کوشش کرے گی تو اس کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔