اُردو کے معروف افسانہ نگار اورفلمی صحافی شفیق احمد انتقال کر گئے

11:00AM Thu 17 May, 2018

ممبئی16 مئی۔(ندیم صدیقی) اُردو کے معروف افسانہ نگار اور فلمی صحافی شفیق احمد آج اپنی رہائش (واقع نالا سوپارہ۔ نواحِ ممبئی )میں انتقال کر گئے۔ شفیق احمد ( اندازاً اُن کی عمر 70برس ر ہی ہوگی) اِدھر ایک مدت سے بیمار تھے ان کے دونوں گردے خراب ہوگئے تھے اور گزشتہ دو برس سے اُن کا ڈائلیسِس ہو رہا تھا۔ شفیق احمد کا تعلق ضلع مظفر نگر(مغربی اُتر پردیش) سے تھا۔ وہ عروس البلاد کی فلم انڈسٹری میں قسمت آزمانے آئے تھے انہوں نے اپنی سی کوششیں بھی کیں مگر تقدیر اُن پر مہربان نہیں ہوئی۔ وہ کئی برس سے معاصر روزنامہ انقلاب کے سنڈے میگزین میں فلمی کالم لکھ رہے تھے اُن کا یہ کالم اکثر مرحوم و آنجہانی فلمی شخصیات پر ہوتا تھا ، اس کالم کی خصوصیت یہ تھی کہ قاری کے ہاںمضمون پڑھتے وقت یہ احساس غالب رہتا تھا کہ شفیق احمد نے اپنی موضوع شخصیت کے ساتھ خاصا وقت گزار اہوگا اور وہ شخصیت جیسے سامنے ہو ۔ شفیق احمد کے ان مضامین کی ایک خاصیت یہ بھی تھی کہ وہ نہایت پرکشش اور اپنے حجم میں بہت طول طویل نہیں ہوتے تھے۔ جس سے یہ مترشح ہوجاتا تھا کہ مضمون نگار اپنے عصر کے اُردو قارئین کی نفسیات سے بھی بخوبی واقف ہے۔ ان کی ایک کتاب’ فلم نگری کا اندھیرا اُجالا‘‘ جو انہوں نے راقم کو دِی تھی، جس میں انہوں نے اس ’روشن دُنیا‘کی تیرگی کو بڑے سلیقے سے قاری پر واضح کیا تھا۔ بقول ڈاکٹر ظہیر انصاری ان کی تین کتابیں شائع ہوئی ہیں جن کے نام اس طرح ہیںفلم نگری کا اندھیرا اُجالا، ادبی و فلمی شخصیات اور تریا چرتر۔ آخرالذکر کتاب اُن کے افسانوں اور کہانیوں کا مجموعہ ہے جو اکثر فلمی رسالوں میں شائع ہو چکی ہیں مثلاً ماہنامہ ’شمع‘ دہلی وغیرہ۔ آج شام بعد نماز ِمغرب تکیہ شکر محلہ(نالاسوپارہ۔ مشرق) میں انھیں سپرد ِلحد کیا گیا۔ مرحوم شفیق احمد کے پسماندگان میں بیوہ کے ساتھ دو بیٹیاں اور تین بیٹے ہیں۔