کیا کانگریس سے ملائیں گے ہاتھ؟ پہلے سدارمیا کو ہٹایاجائے: جے ڈی ایس کا اسٹینڈ
01:59PM Sun 13 May, 2018
میسور: کرناٹک اسمبلی انتخابات کے لئے ووٹنگ کا عمل کل ہی مکمل ہوچکاہے اور اب ایگزٹ پول کے دعووں کے مطابق ہی تمام پارٹیاں اعدادوشمار کو لے کر غوروخوض کررہی ہیں کیونکہ ایگزٹ پول نے ہنگ اسمبلی کا امکان ظاہر کیاہے۔ کانگریس دوبارہ حکومت سازی کا دعوی کررہی ہے جبکہ بی جے پی لیڈران ہر طرح سے سرکار بنانے کا دعوی کررہے ہیں۔ وہیں جے ڈی ایس کو ایگزٹ پول میں کنگ میکر کے طور پر پیش کیاجارہا ہے۔ ایگزٹ پول کے دعووں کے مطابق بی جے پی یا کانگریس کو کرناٹک کی کرسی تک پہنچنے کے لئے جے ڈی ایس کی سیڑھی لگانی ہی ہوگی۔
اسی درمیان کرناٹک میں کنگ میکر تصور کی جارہی جے ڈی ایس کے قومی ترجمان تنویر احمد نے نیوز 18 سے بات کی اور پارٹی کے اتحاد کو لے کر کئی سوالوں کے جواب دیئے۔
ایگزٹ پول ہنگ اسمبلی دکھارہے ہیں، آپ کو کیا لگتا ہے؟
دیکھئے پہلے دن سے لگ رہا تھا کہ یہاں ہنگ اسمبلی ہوگا۔ ہماری پوزیشن بڑی اچھی رہے گی۔ ہمارے بغیر یا ہمارے علاوہ کوئی حکومت نہیں بناپائے گا۔
جے ڈی ایس کے لئے بی جے پی یا کانگریس میں سے کسے اپنا دوست بنانا آسان رہے گا؟
دوست کون ہوگا، ا س سے پہلے ہمیں دیکھنا ہوگا کہ کرناٹک کے لئے برا کون ہوگا۔ 15 مئی کو 12 بجے آپ کو اچھی خبر ملے گی۔
سدارمیا نے کانگریس کی تشہیر کی قیادت کی، لیکن انہوں نے کہاکہ اگر ضرورت پڑی تو وہ وزیراعلیٰ کا عہدہ چھوڑ سکتے ہیں، کیا یہ آپ کی طرف دوستی کا اشارہ ہے؟
سدارمیا جی کی باتیں وہی جانیں۔ دن میں ایک بات بولتے ہیں اور رات کو کچھ اور۔ لیکن اگر ایسا انہوں نے بولاا ہے تو انہیں پتہ چل گیا ہے کہ کانگریس کو شکست دلانے میں ان کا کردار ہے۔ ہم بالکل اس پر غوروخوض کریں گے۔ سدارمیا کی تشہیر میں بہت زیادہ جوش تھا، وہ صحیح ہیں، ان کو عہدہ چھوڑ دینا چاہئے۔
بغیر سدارمیا کے کانگریس کا جے ڈی ایس سے دوستی کرنا زیادہ مفید رہے گا؟
مفید رہے گا یا نہیں،، یہ تو نہیں معلوم، لیکن کرناٹک کے لئے ضرور فائدہ مند رہے گا۔ کرناٹک کی عوام ایسا شخص چاہتی ہے جو آکر ترقی کرے، یہ کرناٹک کے لئے بالکل اچھے رہے گا۔
اگر جے ڈی ایس کے بغیر سرکار نہیں بنی تو کیا کمار سوامی وزیراعلیٰ بھی بن سکتے ہیں؟
دیکھئے جس شخص کے 20 ماہ کے دوراقتدار کو سب سے اچھا بتایا جاتا ہے، جس پر اسکول، تعلیم، بدعنوانی کا ایک بھی معاملہ نہیں ہے تو کمار سوامی کیوں نہیں۔ کرناٹک کی عوام بھی تو یہی چاہتی ہے۔