مر کزی کا بینہ میں جلد ردوبدل کا امکان

02:23PM Mon 3 Jun, 2013

مر کزی کا بینہ میں جلد ردوبدل کا امکان بھٹکلیس نیوز / 03 جون، 13 نئی دہلی / (آئی این ایس) مرکزی کا بینہ میں توسیع اور ردو بدل اگلے ہفتہ کیا جاسکتا ہے ۔ ذرائع نے بتایا کہ کابینہ میں ردوبدل 6/جون سے 12/جون کے درمیان ہو سکتا ہے ۔ لوک سبھا انتخابات کے لئے ایک سال سے بھی کم وقت باقی رہنے کی وجہ سے یو پی اے دوم حکومت کا یہ آخری ردوبدل ہوسکتا ہے ۔ وزیر اعظم منموہن سنگھ نے جمعہ کو اشارہ دیا تھا کہ کابینہ میں خالی عہدوں کو مد نظر رکھتے ہوئے ردوبدل کیا جاسکتا ہے ۔ جاپان اور تھائی لینڈ کے دورے سے لوٹتے ہوئے سنگھ نے نامہ نگاروں سے کہا کہ کابینہ میں تبدیلی کا امکان ہے جب ان سے پو چھا گیا تھا کہ پی کے بنسل اور اشونی کمار کے استعفیٰ دینے سے خالی عہدوں کو بھرنے کے لئے کیا کابینہ میں ردوبدل پر غور کیا جا رہا ہے ۔ غور طلب ہے کہ ریلوے رشوت ستانی معاملے میں وزیر کے بھانجے اور ریلوے بورڈ کے ایک رکن کے ملوث ہونے کی بات سامنے آنے کے بعد بنسل نے ریلوے کے وزیر کے عہدے سے استعفیٰ دیا تھا جبکہ اشونی کمار نے کوئلہ بلاک الاٹمنٹ گھوٹا لے میں سی بی آئی کی رپوٹ دیکھنے کے معاملے میں ہوئے تنازعہ پر استعفیٰ دیا تھا ۔ریلوے کے وزرات کا عہدہ سڑک اور ہائی کے وزیر سی پی جوشی کو دیا گیا ہے جبکہ وزرات قانون کا چارچ وزیر موصولات کپل سبل کو دیا گیا ہے ۔ڈی ایم کے اور ترنمول کا کانگریس کے ایک سال سے بھی کم وقت کے اندر یو پی اے حکو مت سے حمایت واپس لینے کی وجہ سے خالی ہوئے کئی عہدوں کو بھرا جانا ہے۔اس سال 20/مارچ کو ڈی ایم کے کے پانچ وزراء نے استعفیٰ دے دیا تھا جس کے بعد بھی کا بینہ میں کوئی ردوبدل نہیں کیا گیا تھا ۔ ڈی ایم کے ممبر خزانہ ، صنعت و تجارت ، صحت اور خاندانی بہبود اور سماجی انصاف کی وزرات میں ریاستی وزیر تھے ۔ اس پارٹی سے صرف ایک کابینہ وزیر ایل کے الاگری تھے جن کے پاس کیمیکل اور کھاد کی وزارت تھی ۔2/جی اسپیکٹرم الاٹمنٹ گھوٹالے کے سلسلہ میں ڈی ایم کے کے دو کابینی وزیر دیاندھی مارن اور اے راجہ نے استعفیٰ دے دیاتھا ۔ ڈی ایم کے نے اپنے کوٹے سے ان خالی عہدوں کو بھرنے کے لئے کسی نمائندے کا نام نہیں پیش کیا تھا ۔ اس کے علاوہ کئی ایک وزیروں کے پاس ایک سے زیادہ وزارت کا چارچ ہے ۔ ان سے اضافی چارچ واپس لے کر کس دوسرے کو دیا جاسکتا ہے ۔ اس کے ساتھ ہی کئی وزارء سے وزارت کے عہدے چھوڑنے کو کہا جاسکتا ہے کیونکہ پارٹی اگلے سال لوک سبھا انتخابات سے پہلے انہیں انتظامہ سے جوڑنا چاہتی ہے ۔