مشہور یہودی خاتون اداکار نے اسرائیل کو چراغ پا کر دیا
12:47PM Sat 21 Apr, 2018
امریکی اور اسرائیلی شہریت کی حامل مشہور خاتون اداکار نتالی پورٹمین نے اسرائیل میں منعقد ہونے والی اُس تقریب کے بائیکاٹ کا اعلان کیا ہے جس میں آسکر ایوارڈ یافتہ خاتون اداکار کو دس لاکھ ڈالر کا انعام دیا جانا تھا۔ نتالی کے مطابق وہ خود کو اسرائیلی وزیراعظم کی سپورٹر کے روپ میں پیش نہیں کرنا چاہتی ہیں کیوں کہ تقریب میں بنیامین نیتن یاہو کا خطاب مقرر تھا۔
اسرائیل میں جینیسس پرائز ایوارڈ کی تقریب کے منتظمین کا کہنا ہے کہ 37 سالہ خاتون اداکار حالیہ دونوں میں غزہ اسرائیل سرحد پر ہونے والے خون ریز واقعات کے سبب ذہنی طور پر شدید پریشان ہیں اور وہ خود کو کسی بھی تقریب میں شرکت کے لیے تیار نہیں پا رہی ہیں۔ نتالی کا موقف سامنے آنے کے بعد منتظمین نے تقریب کو منسوخ کر دیا ہے۔ منتظم گروپ نے باور کرایا ہے کہ اسے خاتون اداکار کے انسانی احساس سے متعلق جذبات پسند آئے اور وہ اسرائیلی حکومت کی پالیسیوں سے اعلانیہ اختلاف سے متعلق نتالی کے حق کا احترام کرتا ہے۔
دوسری جانب اسرائیل کی وزیر ثقافت میری ریگیو کا کہنا ہے کہ نتالی پورٹمین بائیکاٹ کی تحریک، سرمایہ کاری نکالے جانے اور پابندیاں عائد کیے جانے کی تحریک کو سپورٹ کر رہی ہیں جس کا مقصد فلسطینیوں کے ساتھ برتاؤ کے سبب اسرائیل کو اقتصادی طور پر تنہا کر دینا ہے۔ ریگیو کے مطابق یہ افسوس ناک امر ہے کہ اسرائیل میں پیدا ہونے والی ایک یہودی خاتون اداکار ان لوگوں کے ساتھ شامل ہو گئی ہے جو اسرائیل کی کامیابی کی کہانی کو ظلم اور تاریکی کا نام دیتے ہیں۔
نتالی پورٹمین بیت المقدس میں پیدا ہوئیں اور تین سال کی عمر میں امریکا منتقل ہو گئی تھیں۔
دوسری جانب اسرائیلی اخبار ہآریٹز کے مطابق نتالی پورٹمین نے ان واقعات کا تعین نہیں کیا جو ان کے لیے پریشانی اور تقریب میں شرکت سے انکار کا سبب بنے۔
اسرائیل کو گزشتہ ہفتوں کے دوران غزہ پٹی کے ساتھ سرحد پر پُر امن فلسطینی مظاہرین کے خلاف کریک ڈاؤن میں خون ریزی کا طریقہ استعمال کرنے پر بین الاقوامی سطح پر وسیع تنقید کا سامنا کرنا پڑا۔ فلسطینی احتجاج کا سلسلہ شروع ہونے کے بعد سے 33 سے زیادہ فلسطینی جاں بحق اور سیکڑوں زخمی ہو گئے۔