مسلم نمائندہ سے بات کرنے کے لئے تیار نہیں ہوئی کسٹمر تو ائیرٹیل نے بدل دیا ملازم
12:13PM Tue 19 Jun, 2018
ائیرٹیل کو اس وقت لوگوں کی بہت زیادہ مخالفت کا سامنا کرنا پڑا جب وہ ایک گراہک کی مانگ پر ہندو نمائندہ بھیجنے کو تیار ہو گئی۔ پوجا نامی خاتون نے ائیرٹیل انڈیا سے ٹویٹر پر اپنے مسئلہ کے حل کے لئے لکھا۔ پوجا کے ٹویٹ کا جواب دیتے ہوئے بھارتی ائیرٹیل کے ایک کسٹمر کئیر ایگزیکٹو نے انہیں ان کی شکایات کو حل کرانے کی یقین دہانی کرائی۔
دراصل، جس کسٹمر کئیر ایگزیکیٹیو نے پوجا کو جواب دیا تھا وہ مسلم تھا اور ان کا نام شعیب تھا۔ اس کے بعد پوجا نے اسسٹنٹ کے لئے ائیرٹیل سے ہندو نمائندہ کی مانگ کی۔ آپ کو بتا دیں کہ پوجا کے ٹویٹر پر 10،500 فالوورز ہیں۔
اس ایگزیکٹیو شعیب کے مذہب پر سوال اٹھاتے ہوئے پوجا نے دوسرا ٹویٹ کرتے ہوئے ائیرٹیل سے ایگزیکٹیو بدلنے کا مطالبہ کیا۔ کسٹمر نے ٹویٹ کیا، "عزیز شعیب، آپ ایک مسلمان ہیں اور مجھے آپ کے کام کرنے کے طریقہ پر یقین نہیں ہے کیونکہ آپ کے قرآن میں کسٹمرز کی سروس کا کچھ الگ ہی طریقہ ہو گا۔ میں چاہتی ہوں کہ میری مدد کے لئے ائیرٹیل ایک ہندو نمائندہ منتخب کرے۔
جموں و کشمیر کے سابق وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے اس معاملے میں ائیرٹیل کو آڑے ہاتھوں لیا۔ انہوں نے ٹویٹ کیا، "میں نے پوری بات چیت پڑھی اور میں اپنا نمبر پورٹ کروا رہا ہوں ۔ ساتھ ہی میں ائیرٹیل ڈی ٹی ایچ کنکشن بھی بند کروا دوں گا۔
تنازعہ بڑھنے پر ائیرٹیل انڈیا نے صفائی دیتے ہوئے کہا کہ وہ اپنے کسی بھی کسٹمر یا ملازم کے ساتھ ذات یا مذہب کے نام پر بھیدبھاو نہیں کرتی۔ کمپنی نے سبھی سے درخواست کی کہ اس واقعہ کو مذہبی رنگ نہ دیا جائے۔