چینی مانشیں بھلی سادہ دل واٹیت ؛ مولانا الیاس ندوی

07:15AM Tue 30 Apr, 2013

چینی مانشیں بھلی سادہ دل واٹیت ؛ مولانا الیاس ندوی بھٹکلیس نیوز / 30 اپریل،2013 بھٹکل / (موصولہ رپورٹ) "چینی مانشیں بھلی سادہ دل واٹیت تینچے دلا بتر اسلامے چی زاپنی بھلی آسانی سرین وسو سکتا ، لیکن دعوتی اعتباران امچو وڑلو المیہ ہو اشے کہ امیوں مسلمان انی مسلم ممالک ہیاری توجہ دیتے ناہی ۔ اگر تیں ہیاری توجہ دیتے  ترین تنگا چو حکمراں طبقہ اسلام پوسون متعارف زاؤنچے نتیجہ بتر بھلی سا مانسا چی ہدایت چو ذریعہ زاؤنک سکتو" ۔ ہیں خیالات چو اظہار چین چے دعوتی سفر پوسون واپسی ور جامعہ اسلامیہ بھٹکل چے استاد تفسیر مولانا الیاس ندوی بھٹکلی جامعہ چے اسمبلی ہالات طلباء جامعہ سرین خطاب کرتے کرون وھتے ، موصوف ہیں موقعار مدارس چی اہمیت اوپر اظہار خیال کرتے سانگلے کہ امیں پلتاؤں کہ جے کھیوں کوں مدارس چو نظام چالّو تنگا دین دین باقی رہالو ہیجے برخلاف جے کھیں مدارس چو نظام رہالو ناہی تنگا دین باقی رہاؤنچے آثار ختم زالے ۔ مولانا محترم ہیں موقعار اسپین انی چین چی ماضی چی مثالو دیتے ہیکاک تفصیل سرین سانگون وھتے ۔ مولانا موصوف طلباء کڑے بے غرض زاؤن دینے چی خدمت کروچی تاکید کرتے سانگتے کہ ہین کام کروچا سبب صرف بے غرض زاؤنچی نیت کافی ناہی بلکہ انبیاء علیہم السلام پرین ہیجو اعلان کوں ضروری اشے ۔ مولانا چینی عوام چے اوصاف بیان کرتے سانگلے کہ چینی عواما بتر تعصب انی حسد چی بیماری ناہی ۔ ہی قوما بتر بھلی سا خوبیو اشے انی برائیو کوں اشے ہی قوم وڑلی جفاکش قوم واٹے ، آز کوں گادی کروچے اپلے پورنے طریقہ اوپر قائم واٹے ۔ مولانا تنگا چے اقتصادیات ، تجارتی ترقیات اوپر روشنی گھالتے سانگلے کہ امیں تنگا ایک کامپلیکس پلّے جے کونات ایک لاکھ پوسون زائد انگڈیو اشے انی ہیں کامپلیکس چے ایک کنارہ ویلان دوسرے کنارہ اوپر وسوچا سبب کار استعمال کروکاز پڑتا ، مولانا محترم ہیں موقعار چینی عوام چی کمزوریو کوں طلباء سامّے دھرؤن وھتے ۔ مولانا ہیں موقعار بھٹکل مولانا ابوالحسن علی ندوی اسلامک اکیڈمی سلسلات زاپتے سانگلے کہ امیں مولانا ابوالحسن علی ندوی اسلامک اکیڈمی چو عصری اسکولا سبب تیار کردہ اسلامیات چو نصاب تنگا چے کئی اسکولات انی ادارہ بتر پیش کیلے ترین تیں ہیکاک بھلی پسند کیلے انی اپلی چینی بھاشے بتر ہیکاک شائع کروچی پیشکش کیلے ۔ ہیں موقعار تینکاک مفکر اسلام حضرت مولانا سید ابوالحسن علی ندوی رحمۃ اللہ علیہ انی حضرت مولانا سید رابع صاحب حسنی ندوی چی تصنیفات کوں ندوہ طرفین دیؤن گیلی جے کونا تیں بھلی پسند کیلے ۔ مولانا محترم آخر بتر سانگلے کہ مجموعی طورار ہیں دورہ ٹکون امکاک اندازہ زالو کہ ذراشی محنت چے نتیجہ بتر انشاء اللہ ایک وڑلی تعداد اسلام چے دائرہ بتر داخل زاؤنک سکتا ۔ مولانا ہیں موقعار بھلی سا مفید زاپنی سانگون وھتے ۔ خیال رہاؤ کہ مولانا چو ہو دورہ کل 6/دیسا چو وھتو ۔ مولانا موصوف ہیجین فوڑے کوں کئی ممالک چو دعوتی سفر کیلاہا جے کونات خلیجی عرب ممالک چے علاوہ جاپان ، سنگاپور ، تھائی لینڈ ، ملیشیا ، مالدیپ ، سری لنکا ، شام ، اردن ، فلسطین ، بیت المقدس انی مصر وغیرہ شامل اشے ، ہیجیت بعض دعوتی اسفار چی روداد کتابی انی سفرنامہ چی شکلے بتر شائع زاؤن اشے ۔ m-ilyas-nadwi