اے ایم یو تنازع پر امت شاہ نے کہا : جو شخص ملک کی تقسیم کا ذمہ دار ہو ، اس کی تصویر سینٹرل یونیورسٹی کیمپس میں کیسے لگائی جاسکتی ہے ؟
06:52AM Sun 6 May, 2018
Share:
ی دہلی : وزیر اعظم نریندر مودی کے بعد اب بی جے پی کے قومی صدر امت شاہ نے بھی جے ڈی ایس کے سربراہ اور سابق وزیر اعظم دیو گوڑا کی تعریف کی ہے۔ انہوں نے دیو گوڑا کو اچھا لیڈر قرار دیا ۔ حالانکہ نے شاہ نے کہا کہ کرناٹک میں کسی پارٹی کے ساتھ اتحاد کا کوئی سوال ہی نہیں ہے ، کیونکہ بی جے پی اکثریت کے ساتھ جیت حاصل کرے گی ۔ وہیں علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں جاری تنازع پر شاہ نے سوال کیا کہ جو شخص ملک کی تقسیم کیلئے ذمہ دار ہے ، اس کی تصویر ایک سینٹرل یونیورسٹی کے کیمپس میں کیسے لگائی جاسکتی ہے؟۔
نیوز 18 انڈیا کے ایگزیکٹو ایڈیٹر امیش دیوگن کےساتھ خاص بات چیت میں امت شاہ نے کرناٹک اسمبلی انتخابات ، بھگوا دہشت گردی ، جسٹس لویا کی موت ، سی جے آئی کے خلاف مواخذہ کی تحریک ، مشن 2019 اور سال کے آخر میں ہونے والے اسمبلی انتخابات پر تفصیل کے ساتھ بات چیت کی۔
امت شاہ نے کہا کہ کرناٹک میں ان کی پارٹی کی جیت کو لے کر کوئی شک نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ کچھ برسوں سے جیت کا جو سلسلہ شروع ہوا ہے ، اسے بی جے پی جاری رکھے گی ۔ لنگایت کو الگ مذہب کا درجہ دینے کی بات کہہ کر کیا کانگریس نے ماسٹر اسٹروک کھیلا ہے ؟، اس کے جواب میں شاہ کہتے ہیں کہ میڈیا چینلوں اور صحافیوں کے علاوہ یہ سوال کسی اور کے دماغ میں نہیں ہے۔
سابق وزیر اعظم اور جے ڈی ایس دیو گوڑا کی طرف بی جے پی کے نرم رویہ پر امت شاہ نے کہا کہ وہ ایک سینئر اور معزز لیڈر ہیں ، لیکن ایک لیڈر کی تعریف کرنے یا ان کا احترام کرنے کا یہ مطلب نہیں ہے کہ ان سے اتحاد کرنے والے ہیں۔ شاہ نے کہا کہ انہیں دیو گوڑا کی پارٹی کی حمایت کی ضرورت نہیں پڑے گی ۔ ان کی پارٹی خود ہی جیت حاصل کرے گی۔