’’سیلاب متاثرین کو مناسب معاوضہ ملنا چاہئے‘‘ ڈپٹی کمشنر دفتر میں طلب کردہ افسروں کے اجلاس میں سابق وزیر اعظم دیوے گوڈا کی ہدایت

12:37PM Wed 29 Aug, 2018

ہاسن:29؍اگست (،نامہ نگار) ضلع کے سکلیشپور سمیت مختلف تعلقہ جات میں سیلاب سے ہوئے بڑے پیمانے پرنقصان کا صحیح اندازہ لگا کر زیادہ سے زیادہ معاوضہ فراہم کیا جائے۔ یہ ہدایت رکن پارلیمان و سابق وزیر اعظم ایچ ڈی دیوے گوڈا نے افسروں کو دی۔ انہوں نے یہاں ڈپٹی کمشنر دفتر میں افسروں کا اجلاس طلب کر کے سکلیشپور اور ارکل گڈھ تعلقہ میں بارش سے ہوئی تباہیوں کیلئے ضروری معاوضہ فراہم کرنے کی ہدایت دی۔ سکلیشپور تعلقہ کے یسلور اور ہیتور ہوبلیوں میں بڑے پیمانے پر نقصان ہوا ہے جس کا انہوں نے خود جائزہ لیا ہے۔ نقصان کا اندازہ لگاتے وقت سرکاری افسر انسانیت سے کام لیں۔ انہوں نے کہاکہ چند مقامات پر زمین کھسکنے سے مٹی کے ڈھیر لگے ہوئے ہیں، بعض مقامات پر زمین بیٹھ گئی ہے۔ ان زمین مالکوں کا بڑے پیمانے پر نقصان ہوا ہے۔ اس لئے سروے کے دوران سرکاری افسر تمام طریقوں سے نقصان کا جائزہ لیں اور رپورٹ تیار کریں۔ دیوے گوڈا نے کہا کہ قومی قدرتی آفات فنڈ کے تحت بہت کم مقدار میں معاوضہ حاصل ہوتا ہے۔اس کیلئے تیار کردہ رہنما ہدایات و اصول میں تبدیلی کی سخت ضرورت ہے۔ اس بارے میں وہ خود بھی وزیر اعظم کو خط لکھ کر گزارش کریں گے۔ سکلیشپور تعلقہ میں کافی کے کاشتکار کنگال ہوچکے ہیں۔ اس مرتبہ کھڑی فصلیں تباہ ہوچکی ہیں ، اس کے علاوہ مرچ کی فصل بھی تباہ ہوگئی ہے جس کا اثر تادیر کسانوں پر رہے گا۔ اس طرح ادرک جوار، دھان اور راگی کی فصلیں تباہ ہوچکی ہیں، مارکیٹ کی قیمت کے مطابق معاوضہ ملنا چاہئے۔ سکلشپور تعلقہ کے ہجناہلی میں پیش آئے زمین کھسکنے کے واقعہ میں زمین کھونے والے کسانوں کو بھی معقول معاوضہ ملنا چاہئے، اس بارے میں وزیر اعلیٰ کے ساتھ تبادلہ خیال کیا جائے گا۔ سابق وزیر اعظم نے اراکین اسمبلی سے کہا کہ جہاں سیلاب آیا ہے ان علاقوں کا زیادہ سے زیادہ دورہ کر کے متاثرین میں اعتماد پیدا کریں اور ان کے دکھ میں برابر شریک رہیں۔ رام ناتھ پورہ میں کاویری ندی کے پانی نے سیلاب کی صورت اختیار کرلی ہے، جس سے متعدد افراد کے مکانات تباہ ہوئے ہیں، گھر سے محروم افراد میں سائٹوں کی تقسیم عمل میں لائی جائے اور انہیں مکانات تعمیر کر کے دئے جائیں۔ ڈپٹی کمشنر روہنی سندوری نے کہا کہ ضلع کے سکلیشپور ارکل گڈھ، بیلور اور آلور تعلقہ میں 307 کروڑ روپئے کا نقصان ہوا ہے۔ زراعت، باغبانی، تعمیرات عامہ اور چھوٹی آبپاشی سمیت مختلف محکموں کی طرف سے نقصان کا اندازہ لگایا گیا ہے، فوری معاوضہ فراہم کرنے کیلئے اقدامات کئے گئے ہیں۔ڈپٹی کمشنر نے بتایا کہ ضلع میں جملہ 1044 گھروں کو نقصان پہنچا ہے جن میں سے 98 گھر پوری طرح تباہ ہوچکے ہیں۔ 41 مکانات 60فیصد تباہ ہوئے ہیں۔این ڈی آر ایف رہنما اصول کے مطابق 282.2 لاکھ روپئے مکانات کی تباہی کیلئے معاوضہ دینا پڑے گا۔ اس طرح 655510 مختلف علاقوں میں کافی، اور مرچ کی 127 ایکڑ، لائچی کی 24655 ایکڑ، دھان کی 975 ایکڑ، سپاری کی 120 ایکڑ، ادرک کی 3535 ایکڑ، آلو کی 765ایکڑ، راگی کی 2401 ایکڑ اور جوار کی فصلیں تباہ ہوئی ہیں جس کیلئے 6899.2لاکھ روپئے معاوضہ دینا پڑے گا۔ این ڈی آر ایف کے رہنما اصول کے تحت نقصان کا معاوضہ تقسیم کیا جانا چاہئے،جس میں مکمل طور پر تباہ شدہ مکان کیلئے 95000 روپئے، زمین کھسکنے، مٹی بیٹھنے سے ہوئے نقصان کیلئے فی ایکڑ 37500 روپئے، کافی، مرچ اور سپاری کی فصلوں کے نقصان کیلئے فی ایکڑ 7000 روپئے، دھان، راگی کی فصل کی تباہی کیلئے 2700 روپئے معاوضہ دیا جانا چاہئے۔