سولیا اور مڈکیری کے درمیان کے ایس آر ٹی سی کی منی بسیں سمپگے گھاٹ کے بند ہونے کے بعد متبادل راستہ سے بس سرویس شروع کی گئی ہے

12:40PM Sat 25 Aug, 2018

منگلورو:25؍اگست (سالارنیوز) کورگ اور آس پاس کے علاقوں میں سیلاب کے بعد حالات بہتر ہورہے ہیں۔ امدادی کاموں میں تیزی لانے اور ضروری اشیاء کی فراہمی کے لئے مناسب اقدامات کئے جارہے ہیں۔ اس دوران سولیا اور مڈکیری کو موڑ نے والی اہم شاہراہ سمپگے گھاٹ کے بند کردئے جانے کی وجہ سے کئی پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑرہا ہے۔ اس راستہ کو کھولنا اور گاڑیوں کی آمد ورفت کو دوبارہ شروع کرنا بہت ضروری ہوگیا ہے۔ تاہم سڑکوں کی حالت خستہ ہونے کی وجہ سے اس راستہ پرگاڑیوں کو دوڑانا مشکل ہے۔ کے ایس آر ٹی سی نے اس سلسلہ میں ایک اہم قدم اٹھاتے ہوئے سولیا اور مڈکیری کے درمیان منی بس سرویس شروع کی ہے۔ کے ایس آر ٹی سی کے پتور ڈیویژن نے سولیا۔ پناتھورو۔ کرائیکے، بھاگ منڈلا، مڈکیری روٹ پر 5منی بسیں شروع کی ہیں۔ اور تقریباً105 کلو میٹر کے فاصلے کا احاطہ کیا جارہا ہے۔ کے ایس آر ٹی سی کے ڈیویژنل کنٹرولر ناگراج شیرالی کا کہنا ہے کہ منی بسیں شروع کرنے سے قبل گزشتہ چہارشنبہ کو اس راستہ پر تجربے کے طور گاڑیاں دوڑائی گئیں اور محکمہ کو اطمینان ہوگیا کہ اس نئے راستے پر بس سرویس شروع کی جاسکتی ہے۔ تجرباتی دوڑ کے فوراً بعد کے ایس آر ٹی سی نے منی بس سرویس کو منظوری دے دی اور ابتدائی طور پر 5گاڑیوں کو دوڑایا جارہا ہے اور بہت جلد 105 کلو میٹر کے اس راستہ پر مزید بسیں دوڑائی جائیں گی۔سمپگے گھاٹ کے راستے سے مڈکیری اور سولیا کے درمیان 51 کلو میٹر کا فاصلہ ہے۔ اس کے بند کر دئے جانے کی وجہ سے اس کے متبادل راستہ کے ذریعہ بس سرویس شروع کی گئی ہے جو 100کلو میٹر سے زیادہ ہے۔ پتور کے ایس آر ٹی سی کے ڈیویژنل کنٹرولر ناگراج شیرالی کا کہنا ہے کہ کے آیس آر ٹی سی کی طرف سے سولیا سے مڈکیری اور وہاں سے سولیا کے لئے سات سات منی بسیں دوڑائی جارہی ہیں تاکہ کورگ ضلع ہیڈ کوارٹر اور اس سے جڑے ہوئے دیہاتوں کو سہولت فراہم ہوسکے۔ سولیا سے مڈکیری کا راستہ اب چار گھنٹوں کا ہے۔اس تعلق سے پی ڈبلیو ڈی کے سوپر نٹنڈنٹ انجینئر کانتاراجو کا کہنا ہے کہ اس راستے سے بسوں کا گزرنا مشکل ہے کیونکہ چند مقامات پر روڈ بہت تنگ ہے اور چند جگہوں پر سڑک خراب ہے، بارش اور سیلاب کی وجہ سے کئی جگہوں پر سڑکیں بہہ گئی ہیں۔چونکہ یہ سڑک تلا کاویری کے جنگلاتی علاقہ سے بھی گزرتی ہے اس مقام پر سڑک کی چوڑائی صرف 3.50 میٹر چوڑی ہے ، تاہم لاریاں اس راستے سے گزرسکتی ہیں مگر زیادہ موڑ ہونے کی وجہ سے ان کی رفتار کم ہوجاتی ہے۔بڑی چاسی والی بسیں اس راستہ پر دوڑائی نہیں جاسکتیں اس لئے صرف چھوٹی گاڑیوں کو دوڑایا جارہا ہے۔ منگلور اور مڈکیری کے درمیان فاصلہ 85کلو میٹر ہے۔ بھاگ منڈلا کے قریب مٹی کے تودے اور چٹانیں گرنے کی وجہ سے یہاں رکاوٹ پیدا ہوگئی تھی تاہم اب اسے صاف کردیا گیا ہے اور اس علاقے سے گزرنے والے راستہ پر گاڑیاں دوڑائی جاسکتی ہیں اور دو ریاستوں کرناٹک (دکشن کنڑا اور کورگ) اور کیرلا (پانا تھورو) کے درمیان یہ سڑک ہے۔سمپگے گھاٹ کو بند کردئے جانے کی وجہ سے کورگ ضلع کے چار دیہات بری طرح متاثر ہوئے ہیں۔ جو نشیبی علاقوں میں ہیں۔ جو دوپالا سمپگے، چیمبو اور پرجا دیہات گھاٹ کو بند کر دئے جانے سے دیگر علاقوں سے کٹ گئے ہیں۔ اس علاقہ کے دیہاتی اور گرام پنچایت افسروں کا ضلع ہیڈ کوارٹر سے رابطہ ٹوٹ گیا ہے۔ ان دیہاتوں کے لوگ اپنے گزر معاش اور کاروبار کے سلسلہ میں ضلع ہیڈکوارٹر مڈکیری کا روزانہ سفرکرتے تھے اب ان کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑرہاہے۔پراجے گرام پنچایت کے نائب صدر ننجپا نے بتایا کہ کسی بھی سرکاری کام کے سلسلہ میں ہمیں مڈکیری جانا پڑتا ہے سڑک بند کردئے جانے کی وجہ سے ہمیں سخت مشکلات کا سامنا کرنا پڑرہا ہے۔ حالات میں کچھ بہتری کے بعد سولیا سے چند بسیں دوڑائی جارہی ہیں۔ مگر اس کیلئے ہمیں لمبا سفر کرنا پڑتا ہے۔ ہمیں کرائیکے بھاگ منڈلا تک جانے کے بعد سولیا سے مڈکیری جانا پڑتا ہے جو بہت مشکل کام ہے اور یہ خطرے سے خالی نہیں ہے۔ گھاٹ روڈ بند کردئے جانے کی وجہ سے مڈکیری، سمپگے ، پراجا، اور دیگر آس پاس کے علاقوں تک روزانہ آنے جانے والوں کو دشواریاں پیش آرہی ہیں اسی لئے چند ملازمین نے کام کو جانا بند کردیا ہے جبکہ چند لوگ مڈکیری ہی میں ٹھہر گئے ہیں۔ اس کیلئے ان کے دوستوں اور رشتہ داروں نے سہولتیں دی ہیں۔