امریکی مالی امداد روکنے پر فلسطینی پناہ گزینوں میں سخت ناراضگی، اسرائیل نے کیا خوشی کا اظہار
10:24AM Sun 2 Sep, 2018
یروشلم: فلسطینی پناہ گزینوں نے امریکہ کی جانب سے اقوام متحدہ ایجنسی کے ذریعہ دی جانے والی مالی مدد روکنے پر سخت ردعمل ظاہر کرتے ہوئے خبردار کیا کہ مغربی ایشیا میں اس سے غصہ، غریبی اور عدم استحکام میں اضافہ ہوگا۔
پناہ گزینوں نے سنیچر کو اس قدم پر سخت رد عمل ظاہر کیا ہے۔ غزہ میں 8 پناہ گزینوں کے باپ نشاط نے کہا کہ اس سے پناہ گزینوں کی حالت مزید خراب ہوجائے گی اور وہ غیر قانونی کارروائیوں میں ملوث ہوجائیں گے۔
واضح رہے کہ امریکہ نے جمعہ کو اعلان کیا تھا کہ وہ فلسطینی پناہ گزینوں کی مدد کرنے والی اقوام متحدہ کی امدادی ایجنسی (یو این آر ڈبلیو) کی حمایت نہیں کرے گا، جس کے سبب ایجنسی میں مالی بحران اور فلسطینی قیادت کے ساتھ کشیدگی میں اضافہ ہوگیا ہے۔یو این آر ڈبلیو گزشتہ 68 برسوں سے اردن، لبنان، شام اور مغربی کنارے اورغزہ میں رہنے والے 50 لاکھ فلسطینی پناہ گزینوں کو مالی امداد مہیا کرا رہی تھی۔ سال 1948 میں اسرائیلی جنگ کے بعد 7 لاکھ سے زائد فلسطینیوں کو اپنا گھر بار چھوڑنا پڑا تھا۔
دوسری جانب اسرائیل نے امریکہ کی جانب سے اقوام متحدہ ایجنسی کے ذریعہ فلسطینی پناہ گزینوں کو دی جانے والی امداد میں کٹوتی کرنے پر خوشی کا اظہار کیا ہے۔ اسرائیل کے خفیہ وزیراسرائیل کاٹج نے اپنے ٹوئٹر پر لکھا کہ امریکہ کا یہ فیصلہ استقبال کے لائق ہے اور یہ ان کے حقیقت پسندانہ نظریئے کو ظاہر کرتا ہے