کریمی لیئر کے بہانے ترقی میں ریزویشن بند نہیں کر سکتے: مرکز

03:58PM Thu 16 Aug, 2018

مرکزی حکومت نے سرکاری ملازمتوں میں ترقی (پرموشن)میں ریزرویشن کے معاملہ میں سپریم کورٹ میں آج کہا کہ کریمی لیئر کے بہانے درج فہرست ذات و قبائل کے سرکاری ملازمین کو ترقی میں ریرویشن کے فوائد سے محروم نہیں کیا جا سکتا۔ مرکزی حکومت کی جانب سے اٹارني جنرل کے کے وینو گوپال نے یہ دلیل عدالت عظمیٰ کے سامنے اس وقت دی جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا ایس سی / ایس ٹی کلاس میں بھی کریمی لیئر کے فارمولہ کو شامل کیا جانا چاہئے؟ وینو گوپال نے چیف جسٹس دیپک مشرا کی صدارت والی پانچ رکنی آئینی بنچ کے سامنے دلیل دی کہ سرکاری ملازمتوں میں ایس سی / ایس ٹی کے ملازمین کو ترقی میں ریزرویشن کا فائدہ دینے سے انکار کرنے کے لئے کریمی لیئر کے فارمولہ کو لاگو نہیں کیا جا سکتا۔
 اس پر آئین بنچ نے مرکز سے پوچھا کہ کیا کریمی لیئر فارمولہ لاگو کرکے ایس سی / ایس ٹی کے امیر لوگوں کو پرموشن میں ریزرویشن دینے سے انکار کیا جا سکتا ہے؟ اٹارني جنرل نے کہا کہ پسماندگی اور ذات کا ٹھپا صدیوں سے ایس سی / ایس ٹی کے ساتھ رہا ہے،اگرچہ ان میں سے کچھ اس سے نکل گئے ہوں۔ انہوں نے دلیل دی کہ آج بھی ایس سی / ایس ٹی برادری کے لوگ سماجی طور پر پسماندہ ہیں اور انہیں اعلی ذات کے لوگوں سے شادی کرنے اور گھوڑی پر چڑھنے کی اجازت نہیں ہوتی۔
انہوں نے مزید کہا، "اتنا ہی نہیں، کوئی ایسا فیصلہ نہیں ہے جس میں یہ کہا گیا ہو کہ کریمی لیئر کے فارمولہ کا استعمال کرکے ایس سی / ایس ٹی کمیونٹی کے امیر افراد کو ترقی میں ریزرویشن سے محروم کیا جا سکتا ہے‘‘۔