اُردو کے ممتاز جدید ناقد، ادیب و شاعراور صحافی پروفیسر فضیل ؔجعفری سپردِ خاک
11:29AM Wed 2 May, 2018
ممبئی: ۔ اُردو کے ممتاز ناقد، شاعر و ادیب 82 سالہ پروفیسر فضیل جعفری کے جسد ِخاکی کو آج بعد نمازِ ظہر لوکھنڈ والا ہنومان نگر(کاندیولی۔ مشرق) میں واقع مسلم قبرستان میں سپردِ لحد کر دِیا گیا۔
واضح رہے کہ ادھر ایک عرصے سے فضیل جعفری بیمار تھے ان کا علاج و معالجہ بھی جاری تھا مگرگزشتہ چند ہفتوں میں ان کی حالت بگڑتی چلی گئی اور منگل کی شام انہوں نے آخری چائے کیا پی اسی کے ساتھ انہوں نے آخری سانس بھی لی ۔
اُن کی رِحلت کی خبر جنگل کی آگ کی طرح عروس البلاد ہی میں نہیں ، پوری اُردو دُنیا میں پھیل گئی۔ آج دوپہر12 بجے کے بعد ٹھاکر ویلیج کاندیولی
( مشرق) میں واقع ان کی قیام گاہ سے مرحوم کا جسدِ خاکی اٹھایا گیا اور پھر قبرستان میں ان سے محبت کرنے والے ، ان کے ماتحت اخبار میں کام کرنے والے اور مداحوں کی خاصی تعداد نے نم آنکھوں سے انھیں مِٹّی دِی۔
اس موقع پر مفتی عزیز الرحمان فتح پوری، فضیل جعفری کے کالج کے زمانے کے دوست اور ممبئی کی مشہور و ممتاز شخصیت ذکا اللہ صدیقی، پروفیسر سید اقبال، پروفیسر رؤف الرحمان خان، منہاج خان، پروفیسر مہتاب احمد،روزنامہ انقلاب کے مدیر شاہد لطیف اور ان کے عملے کے اکثر اراکین، پروفیسر عبد الستار دلوی، سلام بن رزاق، اطہر عزیز، ڈاکٹر خلیل احمد،اسلم پرویز، ایڈوکیٹ شمیم احسن، شاہد ندیم، جاوید ندیم، عرفان جعفری، امتیاز خلیل،عرفان عثمانی،جاویدجمال الدین، ڈاکٹراسد اللہ خان، عبید اعظم اعظمی، عباس صباحت ، سید ریاض رحیم، شحیم خان،شاہ نواز، سید منظر،سکندر مرزا، ڈاکٹر ظہیر انصاری، فضیل جعفری اور باقر مہدی کے دیرینہ دوست اور ’صرف باقر مہدی‘ جیسی کتاب کے مصنف عبد الغنی جیسے اکثر اشخاص کی زبان پر مرحوم فضیل جعفری کے علم و فکر ہی نہیں ان کے کردارِ احسن کا بھی بالخصوص تذکرہ رہا، یہ بات سب نے محسوس کی کہ پروفیسر فضیل جعفری کی رِحلت صرف ایک شخص کی موت نہیں یہ تو علم و کردار اور اخلاص سے مجلا دَور کا خاتمہ ہے۔ باقر مہدی کے بعد ممبئی میں فضیل جعفری کی شخصیت اپنے آپ میں اُردو شعرو ادب کا ایک مینارۂ نور تھی ۔ اس شہر میں چند برس قبل تک ایسے کئی اشخاص تھے کہ جنہیں برِصغیر ہند ۔پاک میں عزت و احترام اور وقار کی نگاہ سے دیکھا جاتا تھا، اُن میں فضیل جعفری آخری شخص تھے۔ ا ب محسوس ہوتا ہے کہ شہرت یافتہ لوگ تو بہت ہیں مگر علم و فن اور صاحب ِکردار اشخاص کا جیسے کال پڑ گیا ہو۔
انا للہ وانا الیہ راجعون
روزنامہ’’ ممبئی اُردو نیوز‘‘ممبئی