بیدر میں طلبہ کے مابین انگریزی کنڑا لغت کی تقسیم

05:41PM Sun 28 Jul, 2013

بیدر میں طلبہ کے مابین انگریزی کنڑا لغت کی تقسیم بھٹکلیس نیوز / 28 جولائی، 13 بیدر:/ (نامہ نگار ) کلیان کرناٹک پرتشٹھان بیدرکے زیراہتمام گورنمنٹ کنڑاہائی اسکول گونلی ، تعلقہ وضلع بیدر میں ’’طلباء کیلئے حوصلہ اور تعلیمی بیداری مہم سال 2013ء ‘‘ کے تحت انگریزی اور کنڑا لغت کی طلباء میں مفت تقسیم عمل میں آئی ۔ اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے بسواکمار پاٹل صدر کلیان کرناٹک پرتشٹھان نے طلباء سے کہا کہ بیدر ضلع کا دہم جماعت کا نتیجہ ہمیشہ افسوسناک ہواکرتاہے، اس شرمناک نتیجہ کو بہتر بناتے ہوئے کچھ مقامات کی ترقی کے لئے طلباء میں تعلیمی بیداری پروگرام منایاجارہاہے ، تاکہ طلباء کو نصاب ازبر ہو، ساتھ ہی ساتھ جنرل نالج کا وافر ذخیرہ ان کے ذہنوں میں ہو۔ سوامی وویکانندا نے ہندوستان کو تعلیمی ملک قراردیاتھا۔ آج ایک سائنسدان ، ایک اچھا اکاؤنٹنٹ ، ایک اچھا افسر ہندوستان میں ہی ملتاہے ۔ انھوں نے طلباء کو ملک سے محبت کی تلقین کرتے ہوئے کہاکہ وہ بڑے ہوکر رشوت خوری سے بچیں ، پیسہ لے کر ووٹ ڈالنے سے دور رہیں ۔ سابق صدر ہند اے پی جے عبدالکلام نے کہاتھاکہ جوتبدیلی سماج میں آئے گی وہ ہمارے اپنے اونچے انفرادی خیالات اور ہمارے بہتر رویہ کی بدولت آئے گی ۔بسواکمارپاٹل نے طلباء وطالبات کو جہاں محنت کرنے کی تلقین کی وہیں ٹی وی اور غلط صحبتوں سے دور رہنے کو کہتے ہوئے بتایاکہ امریکی صدر براک اوبامہ کے گھر ٹی وی ضرورہے لیکن وہ صرف ایک گھنٹہ فی دن کے حساب سے دیکھی جاتی ہے۔ انھوں نے سرکاری اسکول کے طلباء اور خانگی ادارہ جات میں تعلیم حاصل کرنے والے طلباء میں ایک جیسی قوت ہونے کی بات کرتے ہوئے کہاکہ احساس کمتری طلباء میں نہ ہوں تو وہ زیادہ سے زیادہ ترقی کرسکتے ہیں ۔ انھوں نے طلباء سے مختلف سوالات کئے اور گھل مل کر ان سے بات کی ۔ پروگرام کے دوسرے مہمان محمدیوسف رحیم بیدری نمائندہ برائے سالار نے اپنی تقریر میں طلباء سے کہاکہ تمہارے پاس وقت اور صلاحیت ہے ، اس وقت کا استعمال تعلیم کے حصول کے لئے ہو۔کنڑازبان میں 8دانشوروں نے گیان پیٹھ ایوارڈ حاصل کیاہے ۔ افسوس اس بات کا ہے کہ ان 8میں ایک بھی خاتون شامل نہیں ہے۔ کیا گونلی دیہات کی طالبات گیان پیٹھ ایوارڈ کے لئے مسابقت کریں گی ؟اگر ایسا ہوتاہے تو پوربند کانام جس طرح گاندھی جی کے حوالے سے ساری دنیا میں پہچانا جاتاہے ویسے ہی گونلی کا نام ہندوستان کے نقشہ پر آئے گا۔ موصوف نے سوال کیاکہ ہمارے پاس سائنسدان ،ڈاکٹرس، اکاؤنٹنٹ اور بہتر انجینئر ضرور ہیں لیکن یہ لوگ امریکہ کی ملازمت تو پسند کرتے مگر اپنے ملک کی خدمت کرنے میں عار محسوس کرتے ہیں ۔ جو شخص ملک کی خدمت کرتاہے وہی بڑا انسان ہے۔ یوسف رحیم بیدری نے طلباء کو حوصلہ دیا کہ وہ اپنے آپ کو کمتر محسوس نہ کریں ۔ آخری بنچوں پر بیٹھنے والا بھی ذہین ہوتاہے ، شرط یہ ہے کہ اس سے اس کی سطح پر اور اس کے دل میں اتر کر بات کی جائے۔ پروگرام کی صدارت صدر معلمہ ڈی شیلا نے کی اور اپنی صدارتی تقریر میں طلباء وطالبات کو تلقین کی کہ وہ ان باتوں کو ایک کان سے سن کر دوسرے کان سے نہ چھوڑیں ۔ اپنے کو جومعلوم ہے وہ دوسرے طلباء کو بتائیں ۔ علم بتانے سے علم میں اضافہ ہوتاہے ۔ اس موقع پر انہوں نے کلیان کرناٹک پرتشٹھان شکریہ بھی ادا کیا ، بعدازاں طلباء میں انگریزی کنڑا لغت تقسیم کی گئی ۔ پروگرام کا آغاز رادھیکا کے پرارتھنا گیت سے ہوا۔ نہم جماعت کی سپنا نے استقبالیہ گیت پیش کیا۔ سیدفاروق نے استقبالیہ کلمات کہے۔ پروگرام کی نظامت سری کانت سر نے کی ۔ شہ نشین پر منوج کمار بکا، ایم ایس ڈبلیو طلباء ساوتری اور گیتا کے علاوہ سنگماں ، کویتا ٹیچرس موجود تھے ۔ جیول جئے راج سر نے اظہارتشکر کیا۔الزبتھ میڈم بھی موجودتھیں۔دوران پروگرام صحیح جوابات دینے والے طلباء کو پین انعام میں دیاگیا۔ جملہ 68طلباء وطالبات نے اس تقریب میں شرکت کی ۔ بعدازاں تقریب کے بارے میں اپنے تاثرات بھی تحریری طورپر پیش کئے۔ bidar01