بیف کو لے کر تشدد پر بی جے پی لیڈر کا طنز ، بکری کا گوشت کھانا بھی چھوڑ دیں ہندو

11:47AM Sat 28 Jul, 2018

نیتا جی سبھاش چندر بوس کے پڑپوتے اور بی جے پی لیڈر چندر کمار بوس نے بیف بین پر طنز کیا ہے۔ سی کے بوس نے ٹویٹ کیا کہ اگر لوگوں کو بیف کھانے پر مارا جاتا ہے تو انہیں بکری کھانی بھی چھوڑ دینی چاہئے ۔ گائے کو ماتا بتایا جاتا ہے اور اس کا گوشت نہیں کھایا جاتا ، اس طرح بکری بھی تو دودھ دیتی ہے ۔ گاندھی جی بھی بکری کا دودھ پیا کرتے تھے ، اس لئے بکری کو ماتا مانتے ہوئے ہندووں کو اس کا گوشت کھانا بھی چھوڑ دینا چاہئے ۔ سی کے بوس کے اس بیان کو گائے کے نام پر ہورہی موب لنچنگ کے واقعات سے جوڑ کر دیکھا جارہا ہے ۔ بوس کے اس بیان کو لے کر سوشل میڈیا پر انہیں ٹرول بھی کیا جارہا ہے ۔ نیوز ایجنسی اے این آئی کے مطاق سی کے بوس نے کہا کہ بی جے پی حکومت والی ریاستوں میں گئو کشی کے نام پر موب لنچنگ کے واقعات میں اضافہ سے پورا ملک پریشان ہے۔ گاندھی جی جب کولکاتہ آتے تھے ، تو وہ میرے بابا شرت چندر بوس کے ووڈبرن پارک میں واقع گھر پر ہی ٹھہرتے تھے ۔ انہوں نے ہی بکری کا دودھ پینے کی مانگ کی تھی ۔
سی کے بوس نے کہا کہ گاندھی جی کی خواہش کا احترام کرتے ہوئے گھر پر دو بکریوں کو لایا گیا تھا ۔ بکری کا دودھ پینے کی وجہ سے گاندھی جی اس کو ماں کا درجہ دیتے تھے ، اس لئے ہندووں کو بکری کا گوشت کھانا چھوڑ دینا چاہئے۔