آسام شہریت معاملہ: سپریم کورٹ میں پانچ معاملوں پرشروع ہوئی سماعت، مولانا ارشد مدنی نےعدالت کے موقف کوبتایا خوش آئند
03:36PM Tue 31 Jul, 2018
اس پرعدالت نے کہا کہ قانون کے مطابق طریقہ کار سرکارطے کرے اورجوبھی طریقہ کاروضع کیا جائے، اسے لاگوکرنے سے قبل عدالت میں پیش کیا جائے اورعدالت کی منظوری کے بعد ہی اسے لاگوکیا جائے۔ اٹارنی جنرل وینوگوپال نے بھی آج عدالت میں اعتراف کیا کہ حالات بہت خراب ہے لوگوں میں اس کو لے کر زبردست خوف وہراس ہے۔ انہوں نے درخواست کی کہ فاضل عدالت خودطریقہ کار وضع کرے جس پر عدالت نے کہا کہ یہ کام مرکزاورریاست کا ہے۔ اٹارنی جنرل نے یہ بھی کہا کہ سب کو اپنی شہریت ثابت کرنے کا برابر موقع ملے گا۔
اس پر جمعیۃعلما ہند کے وکلانے کہا کہ جب طریقہ کارعدالت میں پیش ہوگا تواس کے مطالعہ کے بعد ہی ہم اپنی درخواستوں پر بحث کریں گے۔ دونوں فریقین کی باتیں سن نے کے بعد عدالت نے کہا کہ کسی کو گھبرانے کی ضرورت نہیں ہے سب کو شہریت ثابت کرنے کا موقع ملے گا۔ عدالت نے یہ بھی کہا کہ این آرسی کا یہ ڈرافٹ فائنل نہیں ہے اوریہ کہ جن لوگوں کا نام شامل نہیں ہے ان لوگوں کے خلاف کسی طرح کی قانونی کارروائی ابھی نہیں ہوگی۔ اب اس معاملے کی آئندہ سماعت 16 اگست کو ہوگی۔
آج کی قانونی پیش رفت پر جمعیۃعلماء ہند کے صدرمولانا سید ارشدمدنی نے اطمینان کااظہارکرتے ہوئے کہا کہ یہ معاملہ انتہائی حساس ہے اور یہ40 لاکھ لوگوں کی زندگی اورموت سے جڑاہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ آج فاضل عدالت نے اپنے حکم میں جو کچھ کہا اس سے اس بات کا صاف اظہارہورہا ہے کہ معاملہ کی حساسیت کا احساس عدالت کو بھی ہے۔ مولانا مدنی نے کہا کہ عدالت کا یہ فیصلہ انتہائی خوش آئند ہے اورہم اس کا خیرمقدم کرتے ہیں۔ مولانا ارشد مدنی نے یہ بھی کہا کہ جب کلیم اورآبجکشن کا عمل شروع ہوگا تو ہمارے جمعیۃعلماء صوبہ آسام کے صدرمولانا مشتاق عنفراپنے تمام معاونین اوررضاکاروں کے ساتھ ہرطرح کی مدد کےلئے تمام مراکزپرموجودرہیں گے۔