ایوان چلانے کے لئے راہل سے تعاون مانگیں گی سمترا مہاجن

01:20PM Sun 15 Jul, 2018

نئی دہلی، 15 جولائی (یواین آئی) لوک سبھا اسپیکر سمترا مہاجن پارلیمنٹ کے مانسون سیشن کو پرسکون انداز میں کارروائی یقینی بنانے کے واسطے کل جماعتی میٹنگ سے قبل کانگریس صدر راہل گاندھی سمیت مختلف پارٹیوں کے رہنماؤں کے ساتھ الگ الگ میٹنگیں کریں گی اور انہیں بتائیں گی کہ جمہوریت کی ساکھ برقرار رکھنے کے لئے ایوان کا چلنا کتنا ضروری ہے۔مسز مہاجن نے یہاں’یو این آئی‘ سے خصوصی انٹرویو میں کہا کہ وہ 17 تاریخ کو کل جماعتی میٹنگ سے قبل دوسری پارٹیوں کے ایک یا دو رہنماؤں کو بلا کر ذاتی طور پر بات کرنے کی کوشش کریں گی اور انہیں اس بات کے لئے راضی کرنے کی کوشش کریں گی کہ ممبران پارلیمنٹ کو اپنے علاقے کے موضوعات پر بولنے کا موقع ضرور ملنا چاہئے۔ اس سے ان کو اپنے ووٹروں کا اعتماد حاصل ہوتا ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ کانگریس کی جانب سے اس کے لیڈر ملک ارجن کھڑگے کے علاوہ مسٹر گاندھی سے بھی ملیں گی کیونکہ وہ کانگریس کے صدر ہیں۔ انہوں نے کہا کہ انتخابات صرف بڑے لیڈروں کے بل بوتے ہی نہیں جیتے جاتے ہیں۔ قومی سطح پر بڑے لیڈر کے کرشمے کے ساتھ حلقہ میں امیدوار کی ساکھ اور شبیہ کا بڑا کردار ہوتا ہے اسی لیے اپنے حق میں بڑی لہر کے باوجود لوگ ہار جاتے ہیں اور اس کے برعکس لہر میں بھی لوگ جیتنے میں کامیاب رہتے ہیں۔ لہذا ایوان میں تمام اراکین کو ان کی قانون سازی کی ذمہ داریوں کی ادائیگی کا موقع ملنا چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ مون سون اور موسم سرما سیشن میں ہی کام کرنے کا موقع ہے۔ اس کے بعد انتخابات کی تیاری شروع ہوجائے گی۔اگر ممبران پارلیمنٹ، خاص طور پر پہلی بار منتخب کئے گئے ممبران پارلیمنٹ کو ان کے حلقوں کے مسائل کو اٹھانے کا موقع نہیں ملتا ہے تو علاقے میں ان کی ساکھ متاثر ہو سکتی ہے۔ ایک سوال کے جواب میں مسز مہاجن نے کہا کہ ممبران پارلیمنٹ کے رویے کو لے کر ملک و بیرون ملک، ہر جگہ سوال اٹھ رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ حالیہ غیرملکی دورے میں انہیں اس قسم کے سوال سننے کو ملے ہیں۔غیر مقیم ہندوستانی برادری نے بھی پارلیمنٹ کے اندر ماحول کو لے کر ناخوشی کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بیرون ملک ہندوستان کی جمہوریت کو دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔لہذا نہ صرف اپنے ملک بلکہ دنیا بھر میں جمہوری نظام کے اعتماد کو مضبوط کرنا ہماری ذمہ داری ہے۔