محبوبہ مفتی نے کہا ’بھارت ماتا کی جے‘ کا نعرہ لگانے میں کوئی قباحت نہیں

01:52PM Sat 25 Aug, 2018

پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی (پی ڈی پی ) صدر اور سابق وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی نے کہا ہے کہ ’بھارت ماتا کی جے‘ کا نعرہ لگانے میں کوئی قباحت نہیں ہے۔ تاہم انہوں نے کہا ہے کہ ’میں اپنی قوم پرستی کا ثبوت دینے کے لئے کبھی بھی یہ نعرہ نہیں لگاؤں گی‘۔ انہوں نے کہا کہ یہ ضروری نہیں کہ ایک بھارتی شہری کو اپنی قوم پرستی کا ثبوت دینے کے لئے ’بھارت ماتا کی جے‘ کا نعرہ لگانا پڑے۔ محبوبہ مفتی نے ان باتوں کا اظہار نجی ٹی وی نیوز چینل ’آج تک‘ سے بات چیت کرتے ہوئے کیا ہے۔ انہوں نے نیشنل کانفرنس کے صدر و رکن پارلیمان ڈاکٹر فاروق عبداللہ کے ساتھ پیش آئے حالیہ ہزیمت آمیز واقعہ پر کہا ’(بھارت ماتا کی جے کا نعرہ لگانا ) ان کی مرضی ہے۔ وہ کیوں نہیں لگا سکتے ہیں؟ اگر ان کو لگتا ہے کہ ایسا موقع ہے تو وہ لگا سکتے ہیں، اس میں کیا ہے؟ یہ ضروری نہیں کہ ایک بھارتی شہری کو اپنی قوم پرستی کا ثبوت دینے کے لئے بھارت ماتا کی جے کا نعرہ لگانا پڑے۔ میں اس کو بالکل عجیب سمجھتی ہوں۔ آپ قومی ترانے پر کھڑے نہیں ہوئے تو شام کے وقت ٹیلی ویژن چینلوں پر بحث شروع ہو جاتی ہے‘۔ بتا دیں کہ فاروق عبداللہ کوعیدالاضحی کے موقع پر سری نگر کے درگاہ حضرت بل میں اس وقت شدید ہزیمت کا سامنا کرنا پڑا جب نماز عید کے اجتماع کے شرکاء نے ان کی موجودگی پر احتجاج کرتے ہوئے ’کشمیر کی آزادی‘ اور ’پاکستان کے حق میں‘ شدید نعرے بازی کی۔ فاروق عبداللہ نے گذشتہ ہفتے نئی دہلی میں سابق وزیر اعظم آنجہانی اٹل بہاری واجپئی کو خراج عقیدت پیش کرنے کے سلسلے میں منعقدہ ایک تقریب میں ’بھارت ماتا کی جے‘ اور ’جے ہند‘ کے نعرے لگائے تھے۔ محبوبہ مفتی نے کہا کہ ’میں اپنی قوم پرستی کا ثبوت دینے کے لئے کبھی بھی یہ نعرہ نہیں لگاؤں گی‘۔ انہوں نے کہا ’ہندوستان زندہ باد کون نہیں کہتا ہے۔ سارے جہاں سے اچھا ہندوستان ہمارا کون نہیں کہتا۔ یا اے ماں تجھے سلام۔ نعروں کو ایشو بنانا صحیح نہیں۔ جو یہ نعرے لگائے وہ بہت اچھا ہوگیا۔ چاہے اس کے سیاسی بیانات کتنے ہی الٹے سیدھے کیوں نہ رہے ہوں۔ مگر جو نہیں بولے وہ بُرا ہوجاتا ہے۔ اینٹی نیشنل کہلاتا ہے۔ میں اپنی قوم پرستی کا ثبوت دینے کے لئے کبھی بھارت ماتا کی جے کا نعرہ نہیں لگا سکتی‘۔ انہوں نے کہا ’مجھے کسی چیز سے اعتراض نہیں ہے۔ لیکن اپنی قوم پرستی ثابت کرنے کے لئے ہندوستان زندہ باد کا نعرہ بھی نہیں لگاؤں گی‘۔ محبوبہ مفتی نے فاروق عبداللہ کے ساتھ پیش آئے واقعہ پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا ’وہ کبھی کبھی ایسا (ایسے نعرے لگاتے ہیں) کہتے ہیں۔ وہ ہمارے جموں وکشمیر کے بہت بڑے لیڈر ہیں۔ اعتراض جتانے کے لئے کوئی مہذب طریقہ اختیار کیا جانا چاہیے۔ ایک بزرگ لیڈر کے ساتھ اس طرح کا رویہ میرے حساب سے صحیح نہیں ہے‘۔ محبوبہ مفتی نے کہا کہ بھارت میں عدم برداشت روز بروز بڑھتا ہی جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا ’میں سمجھتی ہوں کہ ہمارے ملک میں عدم برداشت روز بروز بڑھتا جارہا ہے۔ ابھی سدھو جی پاکستان چلے گئے۔ وہاں وہ عمران خان صاحب سے ملے اور انہیں گلے لگایا تو پورے ملک (بھارت) کا میڈیا بھڑک اٹھا۔ (یو این آئی)