نصف عملہ کے ساتھ کرناٹک کی یونیورسٹوں میں تعلیمی سال کا آغاز

03:40PM Thu 26 Jul, 2018

بنگلور، 26 ؍جولائی(فتحان نیوز) ایک اور تعلیمی سال کا آغاز اور بنگلور شہر کے بشمول ریاست بھر کے سرکاری کالج اور یونیورسٹیوں میں طلباء تدریسی عملہ کی قلت کے ساتھ داخل ہونے جا رہے ہیں۔بد ترین صورت حال یہ ہے کہ ریاست کی انیس یونیورسٹیوں میں پوسٹ گراجویشن کے طلباء داخل ہو رہے ہیں جہاں تدریسی عملہ کی تعداد نصف سے بھی کم ہے۔حالانکہ یونیورسٹیوں کے مقابلہ میں گراجویشن کے طلباء کچھ بہتر حالت میں نظر آتے ہیں لیکن ان کالجوں میں بھی اکثر اعلیٰ عہدے خالی پڑے ہوئے ہیں اور کل 410 میں سے صرف 14 پرنسپل کے عہدے پر کئے گئے ہیں۔بزرگ تدریسی عملہ کا جہاں تک سوال ہے کرناٹک میں قائم انیس یونیورسٹیوں میں بہت کچھ امیدیں ابھی باقی ہیں۔معاون پروفیسروں سے لیکر پروفسروں تک کے 45 فیصدسے زیادہ عہدے ان یونیورسٹیوں میں خالی پڑے ہوئے ہیں اور ماہرین کا کہنا ہے کہ اس کی وجہ سے تعلیمی معیار بری طرح سے متاثر ہورہا ہے، واضح رہے کہ محکمہ برائے اعلیٰ تعلیم کے تحت ریاست بھر میں انیس یونیورسٹیاں قائم ہیں۔محکمہ برائے اعلیٰ تعلیم کے ذرائع کے مطابق معاون پروفیسر، رفیق پروفیسر اور پروفیسروں کے کل 3,524 عہدوں کی منظوری سرکاری طور پر حاصل ہو چکی ہے جن میں سے 1,561 عہدے خالی ہیں، جو کہ تقریباً 44.3 فیصد ہے۔ان کے علاوہ کئی کالجوں میں کل وقتی لکچرروں کا بھی فقدان ہے جن کے لئے مہمان اساتذہ کے ذریعہ کام چلایا جاتا ہے۔محکمہ برائے کالجیٹ تعلیم کے ذرائع کے مطابق ضرورت کے مطابق اساتذہ کی قلت کے پیش نظر ریاست کے کئی مقامات پر سائنس کالجوں کو بند کئے جانے کی بھی تجاویز رہی ہے جبکہ آرٹس کالجوں میں داخلوں کی شرح گھٹ کر تیس فیصد کو پہنچ گئی ہے۔ایک دفتری ذریعہ کے مطابق ’’ریاستی حکومت نے مفت لیاپ ٹاپ، بس پاس اور دیگر سہولیات فراہم کرنے کے منصوبے تیار کرکے انہیں نافذ بھی کیا تھا تاکہ ان کالجوں میں داخلوں کی شرح میں اضافہ کیا جا سکے، لیکن اس کا کوئی فائدہ نہیں ہوا، دراصل ان چیزوں کے فراہم کرنے کے بجائے حکومت کو چاہئے کہ تجربہ کار اساتذہ کا تقرر کرے، جس سے کالج اور اس کے تعلیمی معیار میں بہتری واقع ہوگی جو طلباء کو راغب کر سکتی ہے‘‘۔پچھلے سال جب شہر کے کئی اخبارات نے یہ خبر شائع کی کہ کل 412 سرکاری فرسٹ گریڈ کالجوں میں سے 390 کالجوں میں کل وقتی پرنسپل نہیں پائے جاتے تو، لوک آیوکتہ نے از خود محکمہ برائے کالجیٹ تعلیم کے خلاف ایک مقدمہ داخل کر لیا تھا۔ایک اعلیٰ افسر نے بتایا کہ’’پرنسپل ، پروفیسر کے زمرہ سے آتے ہیں جبکہ سال 2009 سے اب تک تین سال سے زیادہ مدت تک معاون پروفیسروں کے عہدوں پر رہنے والے تجربہ کار افراد کو پرنسپل کے عہدوں پر ترقی ہی نہیں دی گئی ہے،یہ معاملہ محکمہ مالیات میں زیر التواء ہے۔کئی اساتذہ تجربہ رکھنے کے باوجود پروفیسر کے عہدوں تک پہنچے بغیر ہی وظیفہ یاب بھی ہو گئے ہیں‘‘۔گنگا دھریشور(فرضی نام) پچھلے دس سالوں سے معاون پروفیسر کی حیثیت سے خدمات انجام دے رہے ہیں اور ان کی ترقی سال 2011 سے زیر التواء ہے، انہوں نے سوال کیا کہ’’میرے اس پیشہ میں تیس سال سے زیادہ کی مدت تک خدمات انجام دینے کے باوجود کیا مجھے صرف معاون پروفیسر کی حیثیت سے وظیفہ یاب ہونا پڑیگا؟‘‘دلچسپ بات یہ ہے کہ خود اس شعبہ میں خالی اسامیوں کی موجودگی کے باوجود کئی پروفیسروں کا دوسرے محکموں میں تبادلہ کیا جاتا ہے۔محکمہ کے ذرائع نے وضاحت کی کہ یونیورسٹی گرانٹس کمیشن اور کرناٹک ریاستی یونیورسٹیز قانون کے تحت پروفیسروں کا تقرر وائس چانسلر، رجسٹرار یا پھر کسی بھی دوسرے انتظامی عہدے کے لئے کیا جا سکتا ہے۔حیرت انگیز بات یہ ہے کہ ان میں سے بعض کا تقرر غیر یونیورسٹی محکمہ جات جیسے کرناٹک پسماندہ طبقات کمیشن کے ڈائرکٹروں کی حیثیت سے بھی ہوا ہے۔بنگلور یونیورسٹی کے سابق وائس چانسلر ڈاکٹر ایم ایس تمپا نے بتایا کہ’’بین الاقوامی منصوبہ جات اور وہ منصوبے جو یونیورسٹی گرانٹس کمیشن کی جانب سے تجویز کئے جاتے ہیں ان کی ذمہ داری تدریسی عملہ کے اراکین کو دی جاتی ہے، اگر کسی یونیورسٹی میں پروفیسروں کے عہدے خالی ہوتے ہیں تو اس کا مطلب یہ بھی ہوگا کہ ان یو نیورسٹیوں میں تحقیقاتی کام بری طرح سے متاثر ہو رہا ہے‘‘۔محکمہ اعلیٰ تعلیم کے ذرائع سے حاصل شدہ معلومات کے مطابق صرف بیلگاوی میں قائم رانی چینما یونیورسٹی ایک ہی ہے جہاں بڑی حد تک عملہ کا مکمل تقرر عمل میں آیا ہے ، اس یونیورسٹی کے کل 120 منظور شدہ عہدوں میں سے صرف پندرہ اسامیاں خالی ہیں۔ڈاکٹر گنگو بائی ہنگل میوزک اینڈ پرفارمنگ آرٹس یونیورسٹی ، میسور اور کرناٹک فولک لور یونیورسٹی ہاویری دونوں ہی میں ابھی تک مستقل تدریسی عملہ کا تقرر عمل میں نہیں آیا ہے جس کے نتیجہ میں ان یونیورسٹیوں میں سو فیصدی اسامیاں خالی پڑی ہوئی ہیں، ریاستی حکومت، ان یونیورسٹیوں کے قائم کرنے کے دس سال بعد اب ان دونوں کو ضم کرنے پر غور کر رہی ہے۔غیر منقسم بنگلور یونیورسٹی (جسے حال ہی میں تین حصوں میں تقسیم کیا گیا ہے)، میسور اور کرناٹک یونیورسٹی دھارواڑ وغیرہ جیسی یونیورسٹیوں میں ، جہاں پوری ریاست کے طلباء کی کل تعداد کا نصف حصہ تعلیم حاصل کر رہا ہے صرف آدھی تعداد ہی میں عہدوں کو پر کیا گیا ہے۔ہماری ریاست کی تمام انیس یونیورسٹیوں میں تدریسی عملہ کی عمومی قلت 45.73 فیصد ہے اور کل 3,934 عہدوں میں سے ابھی 1,799 عہدے خالی پڑے ہوئے ہیں ، غیر تدریسی عملہ کے سلسلہ میں بھی صورت حال تقریباً یہی ہے جہاں کل 7,838 منظور شدہ عہدوں میں سے 3,736 یعنی 48 فیصد ابھی خالی پڑے ہوئے ہیں ۔ماہرین کا ماننا ہے کہ ریاستی حکومت اور محکمہ تعلیم کی طرف سے ،اس طرح عوامی تعلیمی ادارہ جات کے سلسلہ میں مسلسل غفلت کا معاملہ ، خانگی یونیورسٹیوں کے ساتھ ان کے مقابلہ کو مزید انحطاط کا شکار بنا سکتا ہے ، اس کے علاوہ ان تعلیمی ادارہ جات کے ذریعہ ایسے تعلیم یافتہ افراد کا ریوڑ نکلنے والا ہے جو ضروری صلاحیتوں سے محروم ہو کر معاشرہ پر صرف ایک بوجھ ہی بن سکتا ہے ۔