کیرالہ کے ایک بھکاری نے سیلاب راحت میں 94 روپئے عطیہ کر کے دکھائی اپنی دریادلی

12:12PM Mon 3 Sep, 2018

کیرالہ سیلاب میں تین سو سے زیادہ لوگ مارے گئے اور کئی لوگوں کا آشیانہ اجڑ گیا۔ صدی کے سب سے بھیانک سانحہ کو جھیل رہے کیرالہ کو ملک بھر سے بڑے پیمانہ پر مدد مل رہی ہے۔ رہنماؤں، اداکاروں، عام لوگوں، فوج کے جوانوں، این ڈی آر ڈی ایف وغیرہ سبھی نے اپنے اپنے طور پر ان کی مدد کی۔ حالانکہ ان میں خاص بھیک مانگنے والے ایک شخص کی کہاںی ہے جس نے بھیک مانگ کر جمع کئے چورانوے روپئے سیلاب میں راحتی کام کے لئے عطیہ کر دئیے ہیں۔ یہاں، کوٹایم کے رہائشی موہنن چار کلومیٹر پیدل چل کر اراٹٹو پیٹا میونسپلٹی کے سابق صدر ٹی ایم رشید کے گھر پہنچے۔ رشید نے سوچا کہ موہنن بھیک مانگنے آئے ہیں اور انہوں نے 20 روپے دے دئیے۔ حالانکہ رشید تب حیران رہ گئے، جب موہنن نے ان سے پیسہ لینے کے بجائے وہیں سیڑھیوں پر بیٹھ کر اپنے روپئے گننے لگے۔
 رشید نے پورا واقعہ فیس بک پر پوسٹ کیا ہے۔ انہوں نے لکھا ہے، 'موہنن نے 94 روپے دیئے اور اسے وزیراعلی ریلیف فنڈ میں عطیہ دینے کے لئے کہا۔ موہنن نے اپنے سارے پیسوں کی گنتی کی اور پھر میرے پاس چھوڑ کر چلے گئے۔