کاویری پانی کی تقسیم کا مسئلہ عارضی طورپر حل تملناڈوکو جون ،جولائی تک چھوڑے جانے والے پانی سے تین گنا زیادہ پانی جاری کردیاگیاہے

03:45PM Sat 4 Aug, 2018

بنگلورو۔4؍اگست(سالار نیوز) ریاست میں مانسون کی زبردست بارشوں کے نتیجے میں کاویری پانی تقسیم کا معاملہ عارضی طورپر حل ہوگیاہے۔ تملناڈو کے میٹور ذخیرہ آب کے لئے مقررہ مقدار سے10ٹی ایم سی زیادہ پانی جاری کیاگیاہے۔ کاویری ٹریبونل کے فیصلے کے مطابق کاویری ذخیرہ آب کے علاقے سے تملناڈو کو کم از کم100ٹی ایم سی زیادہ پانی تملناڈو کو چھوڑا جاناتھا لیکن اس سے تین گنا زیادہ اب تک بہہ چکاہے۔ جون اور جولائی کے مہینے میں طاس کاویری علاقے میں ہوئی زبردست بارش کے نتیجے میں تمام آبی ذخائر بھر گئے ہیں۔ تملناڈو کا میٹو ذخیرہ آب بھی جولائی کے مہینے میں لبریز ہوگیاہے۔ جولائی کے آخر تک کرناٹک سے تملناڈو کو122ٹی ایم سی پانی جاری کئے جانے کی اعلیٰ سطح ذرائع نے اطلاع دی ہے۔ اکتوبر کے آخرتک ریاست سے تملناڈو کو کل147ٹی ایم سی پانی چھوڑا جانا ہے۔ اس مہینے میں اتنی مقدار کا پانی بہہ چکاہے، ستمبر تک بہنے والا پانی ابھی تک بہہ چکاہے۔ جون میں9.5ٹی ایم سی، جولائی میں31ٹی ایم سی پانی چھوڑاجاناتھا۔ پچھلے دو مہینوں سے کورگ ملناڈ کے علاقوں میں ہورہی مسلسل زبردست بارش کے سبب کبنی،کے آر ایس، ہارنگی، ہیماوتی ذخیرہ آب پوری طرح لبریز ہوچکے ہیں۔ افزود پانی جمع کرنے کی گنجائش نہ رہنے کی وجہ سے تملناڈو کو پانی چھوڑے جانے کی صورتحال پیداہوگئی ہے۔ ریاستی حکومت نے اس سے پہلے منصوبے کے تحت میکے ڈاٹ کے قریب پینے کے پانی کے لئے ایک متوازی ذخیرہ آب تعمیر کرلیا ہوتاتو افزود پانی جمع کیاجاسکتاتھا۔ لیکن اس کا موقع نہ ہونے سے مجبوراً افزود پانی کاویری ندی میں چھوڑنے کی صورتحال پیدا ہوگئی ہے۔ کسانوں اور عوام کی اتفاق رائے ہے کہ افزود پانی چھوٹے اور درمیانی سطح کے تالابوں میں بھراجائے، اعلیٰ ذرائع نے کہا ہے کہ مانسون کے اختتام تک ذخائر آب سے ندی کو پانی نہ بھی چھوڑا جائے تو تملناڈو کو دےئے جانے والے پانی کی مقدار تک پانی بہہ جائے گا، محکمہ موسمیات کے ماہرین نے بتایاہے کہ جولائی کے مہینے میں ہی ریاست کے اہم ذخائر آب لبریز ہونے کے باوجود ریاست کے اندرونی علاقوں میں متوقع پیمانے پر بارشیں نہیں ہورہی ہیں۔ شمالی کرناٹک کے بشمول کچھ علاقوں میں کم بارش ہوئی ہے۔ مانسون بھی کمزورہے، لیکن کچھ جگہوں میں مقامی سطح پر معمولی بارشیں ہورہی ہیں۔ بہت زیادہ بارش ہونے والے ساحلی اور ملناڈ کے علاقوں میں بھی بارش کی مقدار گھٹی ہے، ماہرین نے وضاحت کی ہے کہ فی الحال ریاست کے اندرونی حصوں میں بڑے پیمانے پر بارش ہونے کے امکانات نہیں ہیں۔