سیلاب سے متاثر کورگ ضلع میں حالات معمول کی طرف لوٹ رہے ہیں ضلع میں اسکولس کھل گئے ۔9؍اسکولوں کی عمارتیں مکمل طورپر تباہ۔ سڑکوں کی مرمت کیلئے 12کروڑ جاری
01:05PM Fri 24 Aug, 2018
بنگلورو۔24 اگست،18 (سالار) سیلاب سے متاثرکورگ ضلع میں اب حالات آہستہ آہستہ معمول کی طرف لوٹ رہے ہیں ۔اس سیلاب میں اب تک ہلاک ہونے والوں کی تعداد 16ہوگئی ہے ۔اس وقت کورگ ضلع میں موسلا دھار بارش کا سلسلہ رکا ہے۔ حکام سڑکوں اور بجلی کے کھمبوں کی مرمت کرکے بجلی کی سربراہی بحال کرنے اور تباہ ہوگئے مکانات کو درست کرنے میں لگے ہوئے ہیں ۔اس ضلع میں موسلا دھار بارش اور زمین کھسکنے کے واقعات کی وجہ سے پچھلے دو ہفتوں سے اسکولس اور کالجس بند کردئے گئے تھے ۔اب اسکولس اور کالجس کھلنے لگے ہیں ۔ آج کورگ کے کئی علاقوں میں طلبا نے اپنے ہاتھوں سے اسکولوں میں پانی گھس جانے کی وجہ سے اکٹھاکیچڑ صاف کیا ۔اسکولوں کی عمارتوں میں پانی گھس جانے کی وجہ سے بدبو پیدا ہوگئی تھی اسکولی بچوں نے اس گندگی کو بھی اپنے ہاتھوں سے پاک کیا ۔ضلع میں اسکولوں کا آج سے باقاعدہ آغاز ہوگیا ہے ۔علاقہ میں سیلاب کی وجہ سے 76 اسکولوں کو شدید نقصان پہنچاتھا۔ وزیر برائے پرائمری وسکینڈری تعلیم این مہیش نے آج یہاں بتایا کہ جن اسکولوں کی عمارتیں اچھی ہیں قابل استعمال ہیں ان اسکولوں میں آج سے باقاعدہ پڑھائی کا آغاز ہوچکا ہے ۔ مڑکیرے میں منعقدہ ایک اخباری کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وزیر موصوف نے بتایا کہ کورگ میں موسلا دھار بارش کے دوران جن اسکولی عمارتوں کو نقصان پہنچا ہے ان کی مرمت کے لئے 4کروڑ روپئے درکار ہیں ۔مڑکیری تعلقہ کے 7اورویراج پیٹ تعلقہ کے دو کل 9اسکول مکمل طورپر تباہ ہوچکے ہیں جبکہ 163 اسکولی عمارتوں کو نقصان پہنچا ہے ۔ان عمارتوں میں رکھے گئے طلبا کی دستاویزات بھی مکمل طورپر تباہ ہوگئی ہیں ۔ان دستاویزات کی دوبارہ تیاری کیلئے غورکیا جارہا ہے ۔ یہ کارروائی جلد شروع کی جائے گی۔ انہوں نے بتایا کہ اگلے تین دنوں میں طلبا کو نصابی کتابیں، نوٹ بکس اور دیگر تعلیمی اشیاء فراہم کرنے کارروائی کی جائے گی۔ انہوں نے اس اخباری کانفرنس کے ذریعہ یہ تیقن دیا ہے کہ طلبا کی تعلیم کے لئے ضروری اشیاء فراہم کرنے کی حکومت پابند ہے ۔اس میں کسی طرح کا سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔