اردو ایک شیریں زبان ہے ، ایک مذہب سے جوڑنے سے اسے نقصان پہنچا : وینکیا نائیڈو

12:16PM Sun 22 Jul, 2018

ہندوستان کے نائب صدر جمہوریہ وینکیا نائیڈو نے نے اردو زبان کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ وہ ایک شیریں زبان ہے اور آزادی سے پہلے سب اس زبان کا استعمال کیا کرتے تھے اور یہ زبان مجھے بہت پسند ہے۔ یہ بات انہوں نے آج اپنی رہائش گاہ پر یونیسیف کے میڈیا مشیر نیز صحافی ڈاکٹر مظفر حسین غزالی کی صحت وماحولیات سے متعلق کتاب کا اجراء کرتے ہوئے کہی۔نائب صدر نے اردو کے بارے میں کہا کہ وہ فرقہ واریت کا شکار ہوئی ہے اور اسے ایک مذہب سے جوڑنے کی وجہ سے کافی نقصان پہنچا۔ انہوں نے کہا کہ وہ اردو کی شیرینی اور مٹھاس سے کافی متاثر ہیں جو ایک مذہب سے جوڑنے سے پہلے پورے ہندوستان میں بولی اور پڑھی جاتی تھی۔ انہوں نے مزید کہا کہ اردو ملک کی رابطہ کی زبان تھی۔ سابق وزیراعظم اٹل بہاری واجپئی جیسے لوگوں کی ہندی کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اسے سمجھنے کے لئے کئی مرتبہ ڈکشنری کھولنا پڑتا ہے لیکن اردو آسانی سے سمجھ میں آجاتی ہے ۔
انہوں نے کتاب کے مصنف ڈاکٹر غزالی کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے ایسے موضوعات پر قلم اٹھایا ہے جس کی آج سخت ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ صحت اور ماحولیات کے بارے میں بیداری لانا از حد ضروری ہے کیونکہ ایک صحت مند معاشرہ صحت مند ملک کا عکاس ہوتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اردو اور ملک کی دیگر زبانوں میں ایسے موضوعات پر کم کتابیں شائع ہوتی ہیں ۔ اس لئے ڈاکٹر غزالی نے ایک اچھا کام کیا ہے اور وہ مبارکباد کے مستحق ہیں۔ خیال رہے تقریباً دو سو صفحات پر مشتمل اس کتاب میں 33 مضامین شامل ہیں جو صحت سے متعلق نئی قومی پالیسی سے لیکر ہر اس موضوع کا احاطہ کرتے ہیں جن کا تعلق ہمار ی روزمرہ کی زندگی اور ماحولیات سے ہے ۔ جس کے توسط سے معاشرہ میں بیداری لائی جاسکتی ہے۔ مولانا آزاد یونی ورسٹی ، جودھپور کے صدر پروفیسر اختر الواسع نے لکھا کہ صحت کے موضوع پر اردو میں لکھنے والوں کی خاصی کمی محسوس کی جاتی رہی ہے ۔ اردو میں ایسے قلمکار کمیاب ہیں جو صحت عامہ کے موضوع کا حق ادا کرنے وجدید تحقیقات کی روشنی میں انصاف کرنے کی صلاحیت رکھتے ہوں۔ اس پس منظرمیں ڈاکٹر مظفر حسین غزالی کی یہ کتاب قابل قدر ہے جس میں انہوں نےصحت سے جڑے مسائل خصوصاً امیونائزیشن ، بچوں کی دیکھ بھال ، زچہ بچہ ، غذائیت ، گندگی، آلودگی ، صاف پانی پروغیرہ سیر حاصل گفتگو کی ہے۔ کتاب کی اجراء کی اس باوقار تقریب میں جامعہ ملیہ اسلامیہ کے پروفیسر ریحان خان سوری ، فری لانس جرنلسٹ ارشد غازی ، روزنامہ صحافت کے مدیر نواب اختر اور محمد حمزاء وغیرہ شریک تھے۔